زمین پر درختوں کی تعداد 30 کھرب

،تصویر کا ذریعہThinstock
ایک نئے تخمینے کے مطابق زمین پر 30 کھرب درخت موجود ہیں۔
یہ اعداد وشمار اس سے پہلے لگائے گئے بہترین تخمینے سے آٹھ گُنا زیادہ ہیں جس میں شاید درختوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 400 ارب بتائی گئی تھی۔
یہ تخمینہ ییل یونیورسٹی کے ٹامس کراؤتھر اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے لگایاگیا جنھوں نے سیٹلائٹ تصاویر کے ساتھ ایک بڑے پیمانے پر کیے جانے والے زمینی سروے کو ملا کر یہ نتائج نکالے۔
ٹیم نے دا نیچر جریدے کو بتایا کہ نئے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرۂ ارض میں ہر شخص 420 سے زیادہ درختوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
درختوں کی زیادہ بہتر تعداد سے اب تحقیقی کاموں کے سلسلے میں وسیع بنیاد مل گئی ہے۔
مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پودوں کی افزائش اور حیاتیاتی نظام میں تنوع اور آب و ہوا کے لیے تو درخت فائدہ مند ہیں ہی، لیکن یہ گرین ہاؤس گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ماحول سے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر کراؤتھر نے خبردار کیا ہے کہ درختوں کی اتنی بڑی تعداد کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کوئی تبدیلی آ جائے گی۔
انھوں نے بی بی سی کے ایک سائنسی پروگرام میں بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہم نے کثیر تعداد میں نئے درخت دریافت کر لیے ہوں، ایسا بھی نہیں کہ ہم بہت زیادہ نیا کاربن دریافت کر لیا ہو۔ اس لیے نہ یہ دنیا کے لیے کوئی اچھی خبر ہے اور نہ ہی بُری کہ ہم نے یہ نئی تعداد حاصل کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم سادہ انداز میں صرف دنیا بھر کے جنگلات کی تعداد بتا رہے ہیں تاکہ لوگوں کی سمجھ میں آ سکے اور سائنس دان اس کو اپنی تحقیق میں استعمال کر سکیں اور ماحولیات کے پیشے سے منسلک افراد یا پالیسی بنانے والے اسے سمجھ سکیں اور اس کا استعمال کر سکیں۔‘
ٹیم نے درختوں کی گنجانی جاننے کرنے کے لیے دنیا بھر میں موجود چار لاکھ جنگلاتی مقامات سے معلومات اکٹھی کی ہیں۔
ٹیم کے مطابق شمالی جنگلات میں سب سے زیادہ گھنے درخت دیکھے گئے۔
مطالعے سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ اب انسان کے زمین پر موجود درختوں کی تعداد پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ٹیم نے اندازہ لگایا ہے کہ ہم ایک سال میں 15 ارب درخت کاٹ رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس صرف پانچ ارب درخت لگائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہClara Rowe
تحقیق کے معاون مصنف ڈاکٹر کے مطابق’درختوں کا موجودہ نقصان دنیا بھر میں موجود درختوں کا ایک تہائی ہے۔ یہ کوئی معمولی حصہ نہیں ہے اور اس سے یقینی طور پر ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جنگلات کی کٹائی ماحولیاتی زندگی میں تبدیلی میں کردار ادا کررہی ہے۔‘
اور زیادہ تر درختوں کی کمی لکڑی کی فراہمی اور زراعت کے استعمال کے لیے زمین کی تبدیلی سے منسلک ہے۔ جیسے جیسے عالمی سطح پر انسانی آبادی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے شاید درختوں کے تعداد میں کمی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے۔‘
اگر آج کے دور کا دنیا کے ابتدائی ادوار سے موازنہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ 11 ہزار سال پہلے سے اب تک انسان تین ٹرلین درختوں کا صفایا کرچکے ہیں۔
لندن کی زولوجیکل سوسائٹی کی ڈاکٹر نتھیلی پیٹوریلی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امکان ہے کہ یہ تحقیق دنیا بھر کے درختوں کی تعداد جاننے کی آخری کوشش تھی۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ڈاکٹر مارٹن لوکیک کو یقین نہیں ہے کہ ہم درختوں کی درست تعداد کے قریب ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے دنیا بھر میں درختوں کا لگایا جانے والا تخمینہ 400 ارب تھا۔
نئے اعداد وشمار میں 30 کھرب بڑے درخت شامل ہیں۔ اس تحقیق میں غلطیوں کی بھی بہت گنجائش موجود ہے کہ درست تعداد ان دونوں کے درمیان ہوسکتی ہے یا پھر دس گنا زیادہ۔‘







