شامی بچے اعظم کو کیسے ڈھونڈ نکالا؟

میں نے اعظم کو آخری بار ایمبولینس میں جاتے ہوئے دیکھا اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس کے علاج میں کئی روز لگ جائیں گے
،تصویر کا کیپشنمیں نے اعظم کو آخری بار ایمبولینس میں جاتے ہوئے دیکھا اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس کے علاج میں کئی روز لگ جائیں گے

اعظم ایک شامی بچہ ہے جو پناہ گزینوں کے ہمراہ بلغراد پہنچا اور ایک ماہ قبل ہسپتال سے غائب ہو گیا۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا پر کہرام برپا ہو گیا اور ’FindAzam‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔

بی بی سی کے نامہ نگار جان سوینی نے سربیا سے لے کر جرمنی تک کا سفر کیا اور اعظم اور اس کے چچا کو ڈھونڈ نکالا۔

میں ستمبر میں اعظم سے سربیا میں اس وقت ملا جب میں پینوراما کے لیے مہاجرین کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنا رہا تھا۔ اس کو طبی امداد دی جا رہی تھی کیونکہ وہ ٹوٹے ہوئے جبڑے کی تکلیف سے کراہ رہا تھا۔ اس کا جبڑا اس وقت ٹوٹا جب وہ سویا ہوا تھا اور اس کے اوپر سے گاڑی گزر گئی تھی۔

اعظم کے ساتھ جو شخص تھا اس نے کہا کہ وہ اس کا والد ہے لیکن اعظم نے بتایا کہ وہ اس کا چچا ہے۔

میں نے اس کو آخری بار ایمبولینس میں جاتے ہوئے دیکھا اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس کے علاج میں کئی روز لگ جائیں گے۔

لیکن دو ہفتے بعد جب اس کا علاج مکمل ہونا تھا ہمیں معلوم ہوا کہ وہ اپنے چچا کے ہمراہ ہسپتال سے غائب ہے۔

پینوراما پر چلنے والی دستاویزی فلم ’دا لونگ روڈ‘ چلنے کے بعد ’FindAzam‘ کا ہیش ٹیگ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد سے جو بھی مجھ سے ملتا ہے ایک ہی سوال پوچھتا ہے ’تم اس کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوئے؟‘

میں نے اعظم کے سفر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ اس کی تلاش میں جہاں سے بھی مدد مل سکے مل جائے۔ میں نے بلاگ کو عربی اور ترکی زبان میں ترجمہ بھی کرایا کیونکہ مجھے یہ معلوم تھا کہ اعظم کے والدین ترکی ہی میں ہیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اعظم کی صحت ٹھیک ہے۔ اس کا جبڑے میں تھوڑی سوجن ہے لیکن ویسے وہ بالکل ٹھیک ہے اور کیمرے کو منھ چڑانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کر رہا تھا۔

ہم نے 1500 میل کا سفر طے کیا اس کو ڈھونڈنے کے لیے اور وہ ہمیں منھ چڑا رہا ہے۔ یہ بچے!

اعظم کے چچا خلیل الدہم دمشق سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ دمشق میں بمباری کے دوران اعظم کی آنکھ میں بم کا ٹکڑا لگا تھا۔ اس کے والدین نے چچا سے کہا کہ وہ اعظم کو علاج کے لیے جرمنی لے جائیں۔

اعظم کے ساتھ جو شخص تھا اس نے کہا کہ وہ اس کا والد ہے لیکن اعظم نے بتایا کہ وہ اس کا چچا ہے
،تصویر کا کیپشناعظم کے ساتھ جو شخص تھا اس نے کہا کہ وہ اس کا والد ہے لیکن اعظم نے بتایا کہ وہ اس کا چچا ہے

میں نے خلیل سے پوچھا کہ تم نے ہمیں کیوں کہا کہ میں والد ہوں جبکہ تم تو اس کے چچا ہو تو اس کا جواب تھا: ’شام میں بچے کے لیے والد اور چچا ایک ہی ہوتے ہیں۔‘

میں نے جب چچا سے پوچھا کہ وہ اعظم کو بلغراد کے ہسپتال سے کیوں لے گئے تو ان کا جواب تھا: ’میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ ہسپتال والوں نے مجھے کہا کہ جبڑے کا فریکچر ہے ویسے اعظم ٹھیک ہے۔‘ میں نے جب اس ڈاکٹر کا نام پوچھا جس نے اعظم کو ہسپتال سے لے جانے کی اجازت دی تو ان کو نام یاد نہیں تھا۔

اعظم کے چچا نے بتایا کہ جرمنی میں اعظم دس دن ہسپتال میں رہا اور انھوں نے جبڑے کو سیدھا کرنے کے لیے دھاتی پلیٹ ڈالی۔ بلغراد کے اس ڈاکٹر نے، جو اعظم کا علاج کر رہا تھا، ہمیں بتایا کہ اعظم کو ہسپتال سے نہیں لے کر جانا چاہیے تھا۔

ہم نے اعظم اور اس کے چچا کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور عالمی ریڈ کراس کو مطلع کر دیا ہے۔

اعظم کی تلاش میں ہم میونخ کے مہاجرین سینٹر گئے۔ ان مراکز کے ارد گرد باڑیں لگی گئی تھی اور ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

میں میونخ کے ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا اور ایک چھوٹی ویڈیو ٹویٹ کی کہ میں نے اعظم کی تلاش ختم کر دی ہے اور واپس اپنے ملک لوٹ رہا ہوں۔

اعظم کی تلاش میں ہم میونخ کے مہاجرین سینٹر گئے۔ ان مراکز کے ارد گرد باڑیں لگی گئی تھی اور ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں تھی
،تصویر کا کیپشناعظم کی تلاش میں ہم میونخ کے مہاجرین سینٹر گئے۔ ان مراکز کے ارد گرد باڑیں لگی گئی تھی اور ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں تھی

اور پھر بی بی سی عربی کے میرے ساتھی ممدوح اکبیک نے ایک خبر دی۔ فیس بک پر ایک تارکِ وطن نے ہم سے رابطہ کیا جس نے اعظم اور اس کے چچا کے ساتھ سفر کیا تھا۔

میونخ ہوائی اڈے پر ہم نے انٹرنیٹ پر تلاش شروع کی اور آخر میں ہمیں اعظم اور اس کے چچا کی تصویر مل گئی جو محض تین منٹ پہلے پوسٹ کی گئی تھی۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ فوٹو کس نے کھینچی اور پوسٹ کی۔ چچا کی فوٹو میں اس کا ذکر تھا۔ چچا کی تصویر کے ساتھ جگہ بھی درج تھی۔

چچا کی تصویر کے پیچھے کھیلوں کے سامان کی دکان تھی۔ اس نام کی جرمنی میں دو دکانیں ہیں، ایک برلن میں اور دوسری میونخ میں۔

بہر حال اعظم کے چچا خلیل کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہم انھیں اور اعظم کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ انھوں نے ہمیں فیس بک پر پیغام بھیجا کہ وہ ہیمبرگ میں ہیں۔

ہم چھ گھنٹے کا سفر طے کر کے ہیمبرگ پہنچے لیکن وہاں پہنچ کر معلوم چلا کہ خلیل ہمارا فون نہیں اٹھا رہے۔

ہم مہاجرین کے کیمپ کے آس پاس پھرتے رہے۔ ہم گاڑی کو پارک کرنے کے لیے جگہ ڈھونڈ رہے تھے جب اعظم اور اس کے چچا خلیل ہمیں نظر آئے۔

ہمیں اب یہ معلوم ہوا ہے کہ اعظم کے والدین بھی جرمنی آ گئے ہیں۔