کینیڈا کے انتخابات میں لبرل پارٹی کی فتح

ابتدائی نتائج کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لبرل پارٹی کے حامی کافی خوش دکھائی دے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنابتدائی نتائج کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لبرل پارٹی کے حامی کافی خوش دکھائی دے رہے ہیں

کینیڈا میں حزب اختلاف کی جماعت لبرل پارٹی نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے کنزرویٹو پارٹی کی نو سالہ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا ہے۔

جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں لبرل پارٹی انتخابی مہم کے دوران تیسرے نمبر پر تھی لیکن الیکشن میں وہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

جسٹن ٹروڈو نے جو کینیڈا کے آنجہانی وزیر اعظم پیئیر ٹروڈو کے بیٹے ہیں، کہا کہ کینیڈا کے لوگوں نے اصلی تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے۔

دوسری جانب صاحبِ اقتدار کنزرویٹو جماعت کے وزیر اعظم سٹیون ہارپر نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے اور ان کی پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ جماعت کی سربراہی چھوڑ دیں گے۔

پولنگ ختم ہونے کے بعد بات کرتے ہوئے سٹیون ہارپر کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی ٹورڈو کو مبارک باد دے چکے ہیں اور ’کنزرویٹو پارٹی بغیر ہچکچاہٹ کے نتائج کو تسلیم کرے گی۔‘

اطلاعات کے مطابق بعض پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی قطاریں دیکھی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق بعض پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی قطاریں دیکھی گئی ہیں

کچھ دیر بعد جسٹن ٹروڈو نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہم نے خوف کو امید سے گرا دیا ہے اور مایوسی کو محنت سے ختم کر دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہم نے وہ خیال ختم کر دیا ہے کے کینیڈا کے لوگوں کو اسی کے ساتھ خوش رہنا چاہیے جتنا ان کے پاس ہے۔‘

جیسے ہی نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوا کنزرویٹو کے سابق وزیر انصاف پیٹر میکے کا کہنا تھا کہ ’یہاں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے، ایٹلانٹک کینیڈا میں ہماری گرفت مضبوط ہوا کرتی تھی لیکن یہ ویسا نہیں ہوا جس کی ہمیں امید تھی۔‘

انتخابی نتائج کے مطابق لبرل پارٹی 338 ارکان کے ایوان میں سے 184 نشستیں جیت رہی ہے اور اس طرح اسے پارلیمان میں اکثریت کے لیے درکار نشستوں سے 14 نشستیں زیادہ ملیں گی۔

2011 کے الیکشن میں یہ جماعت صرف 36 نشستیں ہی جیت سکی تھی اور ایوان میں تیسرے نمبر پر تھی۔

یوں کینیڈا کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ تیسرے نمبر کی جماعت اگلے الیکشن میں برسرِ اقتدار آئے گی۔