سعودی عرب کی شامی گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی تیز

ہتھیار تین باغی اتحادی تنظیموں کو دیے جائیں گے جس میں جیش الفتح، فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) اور جنوبی فرنٹ شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہتھیار تین باغی اتحادی تنظیموں کو دیے جائیں گے جس میں جیش الفتح، فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) اور جنوبی فرنٹ شامل ہیں
    • مصنف, فرینک گارڈنر
    • عہدہ, نامہ نگار دفاعی امور، بی بی سی

سعودی عرب کے سرکاری حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روس کی جانب سے شامی باغیوں پر حالیہ فضائی حملوں کے رد عمل میں سعودی عرب نے شام میں تین مختلف باغی تنظیموں کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی تیز کر دی ہے۔

اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شام کے صدر بشارالاسد اور اُن کے روسی، ایرانی اور لبنانی اتحادیوں کے خلاف برسر پیکار عرب اور مغربی حمایت یافتہ باغیوں کو جدید اور طاقتور ہتھیاروں کی فراہمی بڑھا دی جائے گی، جن میں ٹینک شکن ہتھیار بھی شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جن تنظیموں کو ہتھیار فراہم کیے گئے ہیں اُن میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ شامل نہیں ہیں اور اِن دونوں کو کالعدم دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جا چکا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہتھیار تین باغی اتحادی تنظیموں کو دیے جائیں گے جس میں جیش الفتح، فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) اور جنوبی فرنٹ شامل ہیں۔

سرکاری عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اسد اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے سنی باغیوں کو سعودی عرب کی حمایت برقرار رکھنے میں قطر اور ترکی کا کردار بہت اہم ہے۔ روس اسد کے خلاف لڑنے والے تمام باغیوں کو دہشت گرد کہہ رہا ہے جس میں امریکہ کے تربیت یافتہ جنگجو بھی شامل ہیں۔

سعودی حکام نے باغیوں کو زمین سے فضا میں مارے جانے والے میزائلوں کی فراہمی کو رد نہیں کیا۔ اِس اقدام کی کئی مغربی اتحادیوں نے مخالفت کی تھی کیونکہ اُنھیں خطرہ تھا کہ یہ میزائل دولت اسلامیہ کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور اِن ہتھیاروں سے وہ امریکی اتحادیوں کے جنگی جہازوں یا عام طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نیا جہاد

خطے میں موجود سنّی عرب اِس کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی معاہدہ قبول کریں گے جس سے ’ایران کو شام میں اثر و رسوخ کی اجازت مل جائے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخطے میں موجود سنّی عرب اِس کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی معاہدہ قبول کریں گے جس سے ’ایران کو شام میں اثر و رسوخ کی اجازت مل جائے

اِس سے قطع نظر خلیج عرب کے ایک سینیئر عہدیدار نے اِس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شام میں روس کی فوجی مداخلت سے ایک نیا جہاد یا ’مقدس جنگ‘ شروع ہو جائے گی اور وہاں 1980 میں افغانستان میں روس کے تباہ کن تجربہ دہرایا جا سکتا ہے۔

عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کے اصرار پر لندن میں صحافی کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عرب سفارت کاروں نے روس کے وزیر خارجہ سرگے لاروف کو خبردار کیا تھا کہ شام میں اُن کے ملک کی جانب سے کیے گئے اقدامات ’تباہ کن‘ ہیں اور اِس سے بڑی تعداد میں جہادی شام کو روس، ایران اور لبنان سے تعلق رکھنے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں سے ’آزادی‘ دلانے کے ارادے سے لڑیں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ روس نے اِس کا ردعمل فضائی حملوں کو تیز کر کے دیا ہے۔

تاہم خلیجی عہدیدار نے یہ اعتراف کیا ہے کہ چار سال سے زائد کا عرصہ گزرنے اور 250,000 سے زیادہ اموات کے بعد نہ تو مغرب اور نہ ہی عرب ریاستوں کے پاس اِس مسئلے کے حل کے لیے کوئی حکمت عملی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت کو واضح عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اِس وقت مغرب کے لیے سب سے بری چیز یہ ہے کہ اِس بات پر سمجھوتہ کر لیا جائے کہ شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار میں رہنے دیا جائے، چاہے کچھ عرصے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں موجود سنّی عرب اِس کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی معاہدہ قبول کریں گے جس سے ’ایران کو شام میں اثر و رسوخ کی اجازت مل جائے۔‘

گروزنی طرز کی حکمت عملی

سینیئر خلیجی حکام کا کہنا تھا کہ اُنھیں اِس بات کا خطرہ ہے کہ شام میں روس کی جانب سے گروزنی طرز کی حکمت عملی حکومت مخالف تمام علاقوں کو تباہ کرنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسینیئر خلیجی حکام کا کہنا تھا کہ اُنھیں اِس بات کا خطرہ ہے کہ شام میں روس کی جانب سے گروزنی طرز کی حکمت عملی حکومت مخالف تمام علاقوں کو تباہ کرنا ہے

زیادہ تر عرب ریاستیں اور ترکی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ شام کا مسئلہ صرف اُسی وقت حل ہو گا جب بشار الاسد اقتدار چھوڑیں گے۔ اُنھیں اب یہ احساس ہو گیا ہے کہ روس یہ کبھی نہیں ہونے دے گا اور روس بحیرۂ روم کے ساحل کے ساتھ اسد اور اُن کے خاندان کےگڑھ کو بچانے کے لیے خون بہانے سے گریز نہیں کرے گا۔

سینیئر خلیجی حکام کا کہنا تھا کہ اُنھیں اِس بات کا خطرہ ہے کہ شام میں روس کی جانب سے گروزنی طرز کی حکمت عملی حکومت مخالف تمام علاقوں کو تباہ کرنا ہے۔

باغیوں کو نئے اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی سے لگتا ہے کہ شام میں جنگ بد سے بدتر کی جانب جا رہی ہے۔