اقوام متحدہ میں اب فلسطین کا پرچم بھی لہرائے گا

،تصویر کا ذریعہAP
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کی عمارتوں کے سامنے فلسطین کا پرچم لہرانے کی تجویز پر قرارداد کے حق میں اکثریت نے ووٹ دیا ہے۔
اسرائیل نے اس قررداد کی مخالفت کرتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اس کے خلاف ووٹ دیں۔
اس تجویز کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے حق میں 119 ووٹ آئے جبکہ امریکہ اور اسرائیل سمیت آٹھ ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
اس کے علاوہ برطانیہ سمیت 45 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ سویڈن، فرانس، اٹلی، سپین، آئرلینڈ نے فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔
اقوام متحدہ میں فلسطین کے پرچم پر ووٹنگ ایے ایسے وقت ہوئی جب فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گذشتہ برس کئی ممالک نے فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی حمایت کی تھی۔
رواں ماہ مئی میں کیتھولک عیسائیوں کے مرکز ویٹیکن نے فلسطین کو سرکاری سطح پر علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔
پاس کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایسی مبصر ریاستیں جو اقوام متحدہ کی رکن نہیں ہیں، ان کے پرچم ادارے کی عمارتوں کے باہر دیگر ممالک کے جھنڈوں کے ساتھ لہرائے جا سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قرارداد میں پرچم لہرانے کی تجویز پر عمل درآمد کرنے کے لیے 20 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے سال 2012 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ دیتے ہوئے اسمبلی میں ہونے والی بحث میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔
فلسطین 2011 میں اقوام متحدہ کا مستقل رکن بننے میں ناکام رہا تھا کیونکہ سلامتی کونسل میں اس تجویز کی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
اقوام متحدہ میں فلسطین کے مصبرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ریاست کا پرچم 30 ستمبر کو اس وقت عمارت کے سامنے لہرائیں گے جب صدر محمود عباس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کریں گے۔







