سٹون ہینج کی کہانی میں ایک نیا باب

،تصویر کا ذریعہLudwig Boltzman Institute
ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے مشہور مقام سٹون ہینج کے پاس پتھر کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں جو پتھر کے زمانے کی اس سب سے بڑی برطانوی یادگار کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
4,500 سال قدیم ان میں سے کچھ پتھروں کی لمبائی 15 فٹ ہے اور یہ ڈیورنگٹن والس کے ’سوپر ہینج‘ کے مقام پر زمین سے تین فٹ نیچے پائے گئے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ یادگار منفرد ہے اور ’غیر معمولی پیمانے پر‘ بنائی گئی تھی۔
محققین ایک پانچ سالہ منصوبے کے تحت سٹون ہینج کے پوشیدہ مناظر کا زیرِ زمین نقشہ تیار کریں گے۔
ٹیم کو کھدائی کیے بغیر ریموٹ سینسنگ اور جیوفزیکل امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تقریباً سو پتھروں کے وجود کا ثبوت ملا ہے۔
ولٹ شائر میں واقع یہ یادگار سٹون ہینج سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کہا جاتا ہے کہ لوگ یہاں مذہبی رسومات ادا کرتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ یادگار ممکنہ طور پر دریائے ایون کی طرف جانے والی ایک خشک وادی اور کچھ چشموں کے گرد بنائی گئی تھی۔
اگرچہ کوئی کھدائی نہیں ہوئی ہے، لیکن خیال ہے کہ یہ پتھر مقامی ’سارسین‘ پتھروں سے تراشے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیورنگٹن والس کے پاس ایک میدان میں سارسین کا ایک منفرد پتھر کھڑا ہے جسے ’دا ککو سٹون‘ کہتے ہیں۔
تحقیق کےمرکزی محقق ونس گیفنی بریڈفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں نہیں لگتا کہ پوری دنیا میں اس طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ یہ بالکل نئی چیز ہے اور غیر معمولی پیمانے پر بنی ہے۔‘







