تیانجن دھماکوں کے بعد انخلا کا حکم، ہلاکتوں کی تعداد 104 ہوگئی

تیانجن میں پہلا دھماکہ تین ٹن ٹی این ٹی کی قوت تھا جبکہ 30 سیکنڈ بعد دوسرا دھماکہ ہوا جو کہ 21 ٹن کے برابر تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنتیانجن میں پہلا دھماکہ تین ٹن ٹی این ٹی کی قوت تھا جبکہ 30 سیکنڈ بعد دوسرا دھماکہ ہوا جو کہ 21 ٹن کے برابر تھا

چینی حکام نے شمالی شہر تیانجن میں ہونے والے دھماکے کے بعد کیمیکل پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر جائے حادثہ کے تین کلو میٹر کے رقبے کے اندر سے لوگوں کے انخلا کا حکم جاری کیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق تیانجن کے بندرگاہ میں ہونے والے دو دھماکوں میں مرنے والے کی تعداد 104 ہوگئی ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق ’زہریلے مادے کے پھیلاؤ‘ کے خطرے کے پیشِ نظر تین کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے رہائشیوں کو اپنے مکانات خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

شن ہواکے مطابق جائے حادثہ سے 50 میٹر کے فاصلے پر ایک شخص زندہ حالت میں بھی ملا ہے۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں 21 فائر فائیٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 721 افراد زخمی ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں 25 افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

تین کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے رہائشیوں کو اپنے مکانات خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتین کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے رہائشیوں کو اپنے مکانات خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے

سنیچر کو حادثے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے عزیز و اقارب نے سرکاری اہکاروں کی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنے پیاروں کے بارے میں جاننا چاہتے ہے۔

ایک لاپتہ شخص کے بڑی بھائی وینگ بوشیا نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم اپنے طور پر انھیں تلاش کرنے کے لیے تمام ہسپتالوں میں گئے ہیں اور ان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ کوئی بھی حکومتی اہلکار ہم سے ملنا نہیں چاہتا، کوئی ایک بھی نہیں۔‘

دوسری جانب تیانجن کے سائٹ آپریٹرز پر حفاظتی ’قواعد کی واضح خلاف ورزی کرنے‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ادھر چین کی حکومت نے ملک میں مہلک کیمیکلز اور دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو چیک کرنے کا حکم دیا ہے۔

چین کی کابینہ نے بھی حکام کو ’شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔

چینی حکام نے تیانجن کے گودام میں کیلشیئم کاربائیڈ، پوٹیشیئم نائٹریٹ اور سوڈیم ناٹریٹ کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے ’دی پیپلز ڈیلی‘ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت تیانجن کے گودام میں 700 ٹن سوڈیم سائنائیڈ کا ذخیرہ موجود تھا۔

مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

چینی حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کمپنی کے بیان اور کسٹم کے بیان میں تضاد ہے اور کمپنی کے دفاتر کو ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں کیمیکلز کی نشاندہی مشکل ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملیٹری کے 200 سے زیادہ کیمیائي اور حیاتیاتی سائنسز کے ماہرین جائے حادثہ پر موجود ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ تیانجن میں ہوا اور پانی کی کوالیٹی محفوظ سطح پر ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ تیانجن فیسیلیٹی جو روئیہائی لوجسٹکس کے تحت کام کرتی ہے اس نے’حفاظتی ضوابط کی واضح طور پر خلاف ورزی‘ کی ہے کیونکہ خطرناک مادوں کو عوامی عمارتوں سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رکھنا چاہیے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ روئیہائی لوجسٹکس کے سائٹ منیجر کو حراست میں لے لیا گيا ہے۔

جائے حادثہ پر کیمیکل جنگ کے خلاف لڑنے والے فوجی پہنچ گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہXinhua

،تصویر کا کیپشنجائے حادثہ پر کیمیکل جنگ کے خلاف لڑنے والے فوجی پہنچ گئے ہیں

آگ بجھانے والے عملے نے بدھ کی رات آگ کی اطلاعات ملنے پر اپنی ٹیم کی جانب سے کیے جانے اقدامات کا دفاع کیا ہے جبکہ ان خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے پانی کے استعمال کی وجہ سے بعض کیمیکل دھماکے کا سبب بنے۔

خیال رہے کہ کیلشیئم کاربائد میں پانی کے خلاف رد عمل ہوتا ہے اور اس سے ایسیٹیلین انتہائی دھماکہ خیز آتش گیر مادہ پیدا ہوتا ہے۔

فائر کے محکمے کے اہلکار لیئي جنڈے نے کہا: ’ہم لوگوں کو علم تھا کہ اندر کیلشیئم کاربائڈ ہے لیکن یہ پتہ نہیں کہ وہ پہلے ہی پھٹ چکا تھا یا نہیں۔ اس وقت تک کسی کو پتہ نہیں تھا۔ ایسا نہیں کہ آگ بجھانے والے بے وقوف ہیں۔‘

ان دھماکوں میں سات سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنان دھماکوں میں سات سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں

انھوں نے کہا کہ ’آگ بجھانے والے عملے نے کیلشیئم کاربائڈ پر پانی کا چھڑکاؤ نہیں کیا ہوتا لیکن یہ گودام بہت بڑا ہے اور انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مادہ کہاں رکھا ہوا ہے۔ ‘

کیمیکل ماہرین کا خیال ہے کہ ایسیٹیلین نامی آتش گیر مادے کے دھماکے کے بعد امونیم نائٹریٹ کا دھماکہ ہوا ہوگا جس نے دھماکے کو مزید بڑا بنا دیا ہوگا۔

وہاں دو دھماکے ہوئے تھے پہلا دھماکہ تین ٹن ٹی این ٹی کی قوت تھا جبکہ 30 سیکنڈ بعد دوسرا دھماکہ ہوا جو کہ 21 ٹن کے برابر تھا۔