تیانجن دھماکوں کے بعد انخلا کا حکم، ہلاکتوں کی تعداد 104 ہوگئی

،تصویر کا ذریعہEPA
چینی حکام نے شمالی شہر تیانجن میں ہونے والے دھماکے کے بعد کیمیکل پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر جائے حادثہ کے تین کلو میٹر کے رقبے کے اندر سے لوگوں کے انخلا کا حکم جاری کیا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق تیانجن کے بندرگاہ میں ہونے والے دو دھماکوں میں مرنے والے کی تعداد 104 ہوگئی ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق ’زہریلے مادے کے پھیلاؤ‘ کے خطرے کے پیشِ نظر تین کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے رہائشیوں کو اپنے مکانات خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
شن ہواکے مطابق جائے حادثہ سے 50 میٹر کے فاصلے پر ایک شخص زندہ حالت میں بھی ملا ہے۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں 21 فائر فائیٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 721 افراد زخمی ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں 25 افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنیچر کو حادثے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے عزیز و اقارب نے سرکاری اہکاروں کی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنے پیاروں کے بارے میں جاننا چاہتے ہے۔
ایک لاپتہ شخص کے بڑی بھائی وینگ بوشیا نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم اپنے طور پر انھیں تلاش کرنے کے لیے تمام ہسپتالوں میں گئے ہیں اور ان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ کوئی بھی حکومتی اہلکار ہم سے ملنا نہیں چاہتا، کوئی ایک بھی نہیں۔‘
دوسری جانب تیانجن کے سائٹ آپریٹرز پر حفاظتی ’قواعد کی واضح خلاف ورزی کرنے‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر چین کی حکومت نے ملک میں مہلک کیمیکلز اور دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو چیک کرنے کا حکم دیا ہے۔
چین کی کابینہ نے بھی حکام کو ’شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔
چینی حکام نے تیانجن کے گودام میں کیلشیئم کاربائیڈ، پوٹیشیئم نائٹریٹ اور سوڈیم ناٹریٹ کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے ’دی پیپلز ڈیلی‘ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت تیانجن کے گودام میں 700 ٹن سوڈیم سائنائیڈ کا ذخیرہ موجود تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
چینی حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کمپنی کے بیان اور کسٹم کے بیان میں تضاد ہے اور کمپنی کے دفاتر کو ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں کیمیکلز کی نشاندہی مشکل ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملیٹری کے 200 سے زیادہ کیمیائي اور حیاتیاتی سائنسز کے ماہرین جائے حادثہ پر موجود ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ تیانجن میں ہوا اور پانی کی کوالیٹی محفوظ سطح پر ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ تیانجن فیسیلیٹی جو روئیہائی لوجسٹکس کے تحت کام کرتی ہے اس نے’حفاظتی ضوابط کی واضح طور پر خلاف ورزی‘ کی ہے کیونکہ خطرناک مادوں کو عوامی عمارتوں سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رکھنا چاہیے۔
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ روئیہائی لوجسٹکس کے سائٹ منیجر کو حراست میں لے لیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہXinhua
آگ بجھانے والے عملے نے بدھ کی رات آگ کی اطلاعات ملنے پر اپنی ٹیم کی جانب سے کیے جانے اقدامات کا دفاع کیا ہے جبکہ ان خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے پانی کے استعمال کی وجہ سے بعض کیمیکل دھماکے کا سبب بنے۔
خیال رہے کہ کیلشیئم کاربائد میں پانی کے خلاف رد عمل ہوتا ہے اور اس سے ایسیٹیلین انتہائی دھماکہ خیز آتش گیر مادہ پیدا ہوتا ہے۔
فائر کے محکمے کے اہلکار لیئي جنڈے نے کہا: ’ہم لوگوں کو علم تھا کہ اندر کیلشیئم کاربائڈ ہے لیکن یہ پتہ نہیں کہ وہ پہلے ہی پھٹ چکا تھا یا نہیں۔ اس وقت تک کسی کو پتہ نہیں تھا۔ ایسا نہیں کہ آگ بجھانے والے بے وقوف ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے کہا کہ ’آگ بجھانے والے عملے نے کیلشیئم کاربائڈ پر پانی کا چھڑکاؤ نہیں کیا ہوتا لیکن یہ گودام بہت بڑا ہے اور انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مادہ کہاں رکھا ہوا ہے۔ ‘
کیمیکل ماہرین کا خیال ہے کہ ایسیٹیلین نامی آتش گیر مادے کے دھماکے کے بعد امونیم نائٹریٹ کا دھماکہ ہوا ہوگا جس نے دھماکے کو مزید بڑا بنا دیا ہوگا۔
وہاں دو دھماکے ہوئے تھے پہلا دھماکہ تین ٹن ٹی این ٹی کی قوت تھا جبکہ 30 سیکنڈ بعد دوسرا دھماکہ ہوا جو کہ 21 ٹن کے برابر تھا۔







