سربرنیتزا قتل عام کو نسل کشی قرار دینے کی قرارداد، روس کا ویٹو

،تصویر کا ذریعہReuters
روس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی سربرنیتزا میں قتل عام کو نسل کشی قرار دینے سے متعلق قرار داد کو ویٹو کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چار دیگر ارکان نے اس قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ باقی اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
خیال رہے کہ 1995 میں بوسنیا کی سرب فوج کی جانب سے آٹھ ہزار مسلمان مرد اور بچوں کے قتل عام کو یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد بد ترین قتلِ عام قرار دیا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پیش کی جانے والی اس قرارداد سے سربیا ناراض تھا۔ سربیا ’نسل کشی‘ کے لفظ کے استعمال کی مخالفت کرتا چلا آیا ہے۔
یہ قرارداد سربرنیتزا کے قتل عام کے 20 سال مکمل ہونے پر تیار کی گئی تھی۔
اس قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ’مفاہمت کے لیے ضروری ہے کہ سربرنیتزا کے قابل افسوس واقعے کو نسل کشی قرار دیا جائے‘۔
روس کے اقوام متحدہ میں سفیر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ قرارداد مثبت نہیں ہے اور سیاسی نوعیت کی ہے‘۔
اس قرار داد پر ووٹنگ میں ایک دن کی تاخیر کی گئی تاکہ امریکہ اور برطانیہ، جنھوں نے یہ قرار داد تیار کی تھی، روس کو اس قرارداد کی حمایت کرنے پر قائل کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







