سربرنیتزا مقدمہ: ’قتل کی ذمہ دار حکومت‘

نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ 1995 کے سربرنیتزا کے قتلِ عام میں تین بوسنیائی مسلمانوں کے قتل کی ذمہ دار نیدرلینڈز کی حکومت ہے۔
یاد رہے کہ کہ بوسنیا کے شہر سربرنیتزا میں قائم اقوام متحدہ کا ’سیف ایریا‘ نیدرلینڈز کی افواج کے زیر نگرانی تھا۔ 1995 میں بوسنیائی سرب فورسز نے اس علاقے پر حملہ کیا تھا اور آٹھ ہزار مسلمان مرد اور بچوں کا قتلِ عام کیا۔
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ کی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ نیدرلینڈز کی فوج کو تین مردوں کو سرب فوج کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا۔
یہ فیصلہ غیر متوقع تھا اور اس فیصلے کے بعد نیدرلینڈز حکومت کے خلاف مقدمے دائر کیے جا سکتے ہیں۔
یہ مقدمہ ان تین بوسنیائی مسلمانوں کے حوالے سے تھا جو 95-1992 میں نیدرلینڈز کی فوج کے ساتھ کام کررہے تھے اور وہ ان ہزاروں بوسنیائی مسمانوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے سیف ایریا میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ گیارہ جون 1995 میں سرب فوجوں نے اس کیمپ پر حملہ کیا۔
اس حملے کے تین روز بعد نیدرلینڈز کی فوج نے ان تین بوسنیائی مسلمانوں کو کمپاؤنڈ سے باہر نکال دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ’نیدرلینڈز کی حکومت ان تین افراد کے قتل کی ذمہ دار ہے کیونکہ فوج کو ان تینوں کو سرب فوجوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘
اپیل کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ ان تین افراد کے خاندان کو معاوضہ ادا کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دی ہیگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف وکیل استغاثہ بلکہ بوسنیائی مسلمانوں کے وکیل کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔
اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ نیدرلینڈز کی فوج اقوامِ متحدہ کے لیے کام کر رہی تھی لیکن ان غیر معمولی حالات میں فوج کی ذمہ داری بنتی ہے۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں عدالت نے فیصلہ حکومت کے حق میں دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کی ذمہ داری اس لیے نہیں بنتی وہ اقوامِ متحدہ کے تحت کام کر رہی تھی۔
1995 میں سرب فوجوں کی سربرنیتزا میں پیش قدمی کے باعث چار سے پانچ ہزار بوسنیائی مسلمان اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ میں پناہ کے لیے آئے جبکہ پندرہ سے بیس ہزار لوگ کمپاؤنڈ کے باہر تھے۔
دو روز بعد سرب فوجوں کے مطالبے پر نیدرلینڈز کی فوج نے پناہ گزینوں کو کمپاؤنڈ سے نکالنا شروع کردیا۔







