بیل آؤٹ پیکیج مسترد، یونانی عوام کا ایتھنز میں جشن

ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے دارالحکومت ایتھنز کی سڑکوں پر جشن منایا

،تصویر کا ذریعہn

،تصویر کا کیپشنریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے دارالحکومت ایتھنز کی سڑکوں پر جشن منایا

یونانی عوام نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے عالمی قرض خواہوں کی جانب سے مزید قرض کے لیے عائد کی گئی شرائط کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔

اتوار کو بیل آؤٹ پیکیج کو منظور یا مسترد کرنے کے لیے منعقدہ ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے مطابق ’نہ‘ کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔

<link type="page"><caption> یونان میں ’نہ‘ کا جشن</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/07/150705_greece_picture_gallery_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

یونان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے حتمی نتائج کے مطابق ووٹنگ کی شرح 63 فیصد رہی اور کفایت شعاری کے اقدمات کے خلاف 61.3 فیصد جبکہ اس کے حق میں 38.7 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔

ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے دارالحکومت ایتھنز کی سڑکوں پر جشن منایا ہے۔

یونان میں بائیں بازو کی سخت گیر جماعت کی حکومت نے عوام سے قرض خواہوں کی شرائط کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔

 یونانی وزیراعظم تیسپراس نے کہا ہے کہ وہ قرض خواہوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن یونانی وزیراعظم تیسپراس نے کہا ہے کہ وہ قرض خواہوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں

دوسری جانب یورپی یونین کے رہنماؤں نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ریفرینڈم میں ’نہیں‘ کی جیت ہوتی ہے تو یونان یورو زون سے نکل جائے گا۔ اس سلسلے میں منگل کو یورپی یونین کا سربراہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

اتوار کی شب ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد یونانی وزیراعظم تیسپراس نے یونانی ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج ہم جمہوریت کی فتح کا جشن منا رہے ہیں، کل ہم اپنے عوام کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے مل کر اس بحران سے نکلنے کی قومی کوشش جاری رکھیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’آپ نے ایک فراخ دلانہ فیصلہ کیا ہے۔ تاہم آپ نے جو مینڈیٹ مجھے دیا ہے میں اس سے پوری طرح آگاہ ہوں اور جو مینڈیٹ آپ نے مجھے دیا ہے وہ یورپ کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ مینڈیٹ

یورپ کے ساتھ ایک مستحکم حل کی تلاش کا ہے جو ہمیں اس بحران سے نکالے گا‘۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے مطابق ’نہ‘ کو 61.3 فیصد ووٹ ملے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنوزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے مطابق ’نہ‘ کو 61.3 فیصد ووٹ ملے ہیں

یونانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ قرض خواہوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اب ’مذاکرات کی میز پر قرض کا معاملہ ہوگا۔‘

کچھ یورپی رہنماؤں نے بھی ریفرینڈم کے نتائج پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اٹلی کے وزیرِ خارجہ پاؤلو گینتیلونی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’اب ایک معاہدے کے لیے کوشش کرنا درست ہے۔‘

تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا کہ ’یونان کی بھول بھلیاں سے نکلنے کے لیے ایسے یورپ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے جو کمزور ہے اور آگے نہیں بڑھ رہا۔‘

بیلجیئم کے وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ یونان سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے دروازے کھل گئے ہیں اور یوروزون کے وزرائے خزانہ ایسے اقدامات پر بات کر سکتے ہیں جن کے نتیجے میں یونانی معیشت پٹڑی پر واپس آ سکتی ہے۔

لوگوں نے بڑی تعداد میں ریفرینڈم میں حصہ لیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنلوگوں نے بڑی تعداد میں ریفرینڈم میں حصہ لیا

یورپی کمیشن کے صدر جان کلاڈ جنکر نے کہا ہے کہ وہ یورو زون کے رکن ممالک کے رہنماؤں سے مشاورت کر رہے ہیں اور پیر کو اس سلسلے میں اہم یورپی حکام اور یورپی مرکزی بینک کے افسران سے بات چیت کریں گے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور جرمنی چانسلر انگیلا میرکل پیر کو یورپ کی موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔