یوکرین نے روس سے گیس کی خریداری معطل کر دی

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین نے گیس کے نرخوں پر تنازعے کے بعد روس سے قدرتی گیس کی خریداری معطل کر دی ہے۔
یوکرین میں توانائی کی سرکاری کمپنی نافتوگیس کا کہنا ہے کہ روس سے یوکرین کے راستے یورپی یونین کو فراہم کی جانے والی گیس کی رسد جاری رہے گی۔
یہ ایک سال میں دوسری مرتبہ ہے جب یوکرین نے روس سے گیس کی خریداری معطل کی ہے۔ روس کے توانائی کے وزیر الیگزینڈر نوواک نے اس فیصلے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیا ہے۔
روس نے گذشتہ سال فروری میں یوکرین کے مفرور صدر وکٹر یانوکووچ کی حمایت کے بعد قدرتی گیس کی قیمت بڑھا دی تھی۔
جس کے بعد جون سنہ 2014 میں یوکرین نے گیس کی خریداری روک دی اور پھر شمالی یوکرین میں شروع ہونے والی لڑائی میں روس نے باغیوں کی مدد کی تھی۔
اُس کے بعد یورپی یونین نے آسٹریا کے شہر ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں ایک عبوری معاہدہ کیا جس کی ہر تین ماہ بعد توسیع ضروری ہے۔
نافتوگیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’روس اور یوکرین کے درمیان معاہدہ 30 جون کو ختم ہو گیا ہے اور روس سے گیس کی مزید خریداری کے لیے ویانا میں جاری والے سہ فریقی ممالک کی بات چیت پر آج اتفاق نہیں ہو سکا، اس لیے نافتوگیس نے روس سے گیس کی خریداری معطل کر دی ہے۔‘
یوکرین کی سالانہ گیس کی کھپت 50 ارب مکعب میٹر ہے جس کا زیادہ تر انحصار درآمدی گیس پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ کچھ برسوں میں روس اور یوکرین کے درمیان گیس کے نرخوں کے معاملے پر کئی بار کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ روس نے سنہ 2006 اور سنہ 2008 کے موسم سرما میں بھی یوکرین کو گیس کی سپلائی روک دی تھی۔







