یورو زون کا یونان کو بیل آؤٹ پیکج میں توسیع دینے سے انکار

،تصویر کا ذریعہGetty
یورو زون کے وزرائے خزانہ نے یونان کی جانب معاشی بحران سے نکلنے کے لیے دیےگئے بیل آؤٹ پیکج کی مدت میں 30 جون کے بعد تک توسیع کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
<link type="page"><caption> یورو گروپ کے سربراہ جیرون ڈیشیبلوم نے کہا کہ بیل آؤٹ پیکج کے بارے میں بات چیت جمعے کو شروع ہوئی جب یونان نے حیران کن طور پر دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے رکھی گئیں شرائط کو ماننے کے بارے میں ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150626_greece_bailout_package_referendum_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ یونان نے یہ اعلان کر کے بات چیت کے عمل کو ختم کر دیا تھا۔
جیرون ڈیشیبلوم کے مطابق وزرائے خزانہ دوبارہ ملیں گے تاکہ نئے پیش آنے والے واقعات کے نتائج پر بات چیت کی جا سکے۔
ادھر عالمی مالیاتی ادارے، آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا لوگارٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ یونان کی حکومت کی جانب سے بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے ریفرنڈم کا منصوبہ منگل کے بعد سے غیر موثر ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان تجاویز اور انتظامات کے بارے میں ووٹ دیں گے جن کا وجود ہی نہیں رہے گا۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونان کے لیے اب بھی موقع ہے کہ وہ یورو زون کی تجاویز تسلیم کرنے کے لیے اپنے ذہن کو بدلے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
خیال رہے کہ یونان کو عالمی مالیاتی اداروں اور مشترکہ کرنسی یورو کے رکن ملکوں سے تقریباً سوا سات ارب یورو کے ہنگامی قرض کی ضرورت ہے۔
اگر جون کے اختتام سے پہلے یہ قرض نہ ملا تو یونان ڈیڑھ ارب یورو سے زیادہ مالیت کے پرانے قرض عالمی مالیاتی اداروں کو واپس ادا نہیں کر پائے گا۔
<link type="page"><caption> قرض کی ادائیگی میں ناکامی کا مطلب دیوالیہ پن ہو گا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150618_greece_debt_crisis_euro_update_zz.shtml" platform="highweb"/></link> جس کے باعث یونان کو مشترکہ کرنسی سے خارج کر دیا جائے گا جو یورپی اتحاد سے اخراج پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔
یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور اس کو یورپی اتحاد میں رکھے جانے کی کوششوں میں یورپی یونین اور یونان کے کئی اجلاس ہوئے ہیں۔
ان مذاکرات میں یونان نے امیروں اور کاروباری اداروں پر نئے ٹیکسوں سمیت سمجھوتے کے لیے نئی تجاویز پیش کی تھیں۔
یونان کا مجموعی قرض اُس کی مجموعی سالانہ قومی پیداوار کے دگنے کے لگ بھگ ہے اور ماہرین کے بقول اگر اُسے ادائیگی میں سہولت نہ ملی تو یونان کے لیے ہر کچھ عرصے بعد نئے قرضوں کے حصول کے چکر سے نکلنا مشکل ہو گا۔







