بیلجیئم نےمنجمد روسی اثاثے ریلیز کر دیے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ بیلجیئم میں روس کے منجمد کیے گئے اثاثے ریلیز کر دیے گئے ہیں۔ روس نے اثاثوں کو منجمد کیے جانے کے عمل کی مذمت کی تھی۔
یہ اثاثے یوکوس آئل فرم کے تھے جنھیں عدالت کے ایک حکم کے تحت منجمد کیا گیا تھا۔
جولائی 2014 میں ایک بین الاقوامی ثالثی کی عدالت نے کہا تھا کہ روسی اہلکاروں نے یوکوس کو دیوالیہ ہونے کے لیے قانونی نظام کو استعمال کیا تھا۔اس کے بعد یوکوس کو روس کی سٹیٹ فرم نے خرید لیا تھا۔
اس کے سابق سربراہ میخائل خودورکاؤسکی کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔
یوکوس کے ٹوٹنے کے بعد ایک عدالت نے روس کو کہا تھا وہ یوکوس کے شیئر ہولڈرز کو 50 بلین ڈالر بطور ہرجانہ دے۔
لیکن روس نے عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا۔اثاثوں کو منجمد کیے جانے کے بعد روس کے صدر ولادمیر پوتن نے کہا تھا کہ وہ ’انصاف کے راستے سے اپنے مفادات کا دفاع کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بیلجیئم کے ماسکو میں سفیر کو کریملن بلایا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اثاثوں کا منجمد کیا جانا ’ایک کھلا جارحانہ ایکٹ‘ ہے جو کہ بھونڈے طریقے سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
فرانس نے بھی 40 بینکوں میں روس کے اکاؤنٹس منجمد کیے تھے۔ اس کے علاوہ کئی عمارتوں کو بھی قبضے میں لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی تک یہ نہیں معلوم ہوا کہ ان اثاثوں پر سے بھی پابندی اٹھائی جائے گی یا نہیں۔







