سویڈن میں ریپ کا شکار مردوں کے لیے پہلا کلینک

،تصویر کا ذریعہSPL
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ایک ہسپتال نے ریپ کا شکار ہونے مردوں کے لیے ایمرجنسی کلینک کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
ساؤتھ جنرل ہسپتال میں ایسی خواتین کے لیے پہلے ہی ہنگامی طبی امداد کا مرکز کام کر رہا ہے جنھیں ریپ کیا گیا ہو یا ان پر جنسی حملہ کیا گیا ہو۔
تاہم ہسپتال نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر سے اسی طرح کی سہولت مردوں اور لڑکوں کے لیے بھی دستیاب ہو گی۔
ڈاکٹر لوٹی ہیلسٹورم نے ریڈیو سویڈن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام رائے کے مطابق مردوں کو ریپ نہیں کیا جاتا۔
انھوں نے کہا کہ مردوں کے ریپ کے بارے میں بات کرنے کی اب بھی ممانعت ہے لیکن لوگوں کی سوچ کے برعکس یہ خاصا عام ہے۔
ڈاکٹر لوٹی کے مطابق یہ اہم ہے کہ مردوں کو بھی برابری کی سطح پر ہنگامی طبی سہولیات میسر ہوں۔
ہسپتال میں ریپ سے متاثرہ خواتین کے لیے 24 گھنٹے مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں جس میں ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکنوں کی مدد بھی حاصل ہے۔
سویڈن میں جنس سے متعلق تعلیم کی ایسوسی ایشن ’آر ایف ایس یو‘نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسوسی ایشن کے ترمان اینجر بوجورکونڈ نے ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلینک مردوں کے لیے مختص کرنے کے نتیجے میں مردوں پر ہونے والے جنسی حملوں کے مسئلے کے بارے میں شعور پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
سویڈن کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں گذشتہ سال مردوں اور لڑکوں پر جنسی حملوں کے 370 واقعات رپورٹ ہوئے۔







