غزہ حملے پر اسرائیل کی اپنی رپورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل نے گذشتہ برس غزہ میں ہونے والی جنگ کے متعلق اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ آنے سے پہلے ہی اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس نے اپنی فوجی کارروائی کا دفاع کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کو بچانے کے لیے اسرائیل سے جو بھی بن پڑا اس نے کیا۔
رپورٹ میں حماس کے جنگجوؤں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ رہائشی علاقوں سے راکٹ چلاتے تھے جس کی وجہ سے عام شہریوں کی ہلاکت ہوتی تھی۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مقابلے میں اسرائیلی رپورٹ سچ پر مبنی ہے۔
انھوں نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو بے بنیاد بتایا ’جو اسرائیل کے خلاف خود کار الزامات لگا رہی ہے۔‘
حماس کے ترجمان نے اسرائیلی رپورٹ کو ناکارہ بتایا۔
اسرائیلی رپورٹ خارجہ اور انصاف کی وزارتوں اور فوج اور قومی سلامتی کونسل نے مل کر بنائی ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کی غزہ کی جنگ پر رپورٹ سے دو ہفتے قبل جاری کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں 2,200 فلسطینی عام شہری اور 73 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تعداد فوجیوں کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اسرائیلی رپورٹ میں ان حالات کا بھی بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جن میں جنگ لڑی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عام شہریوں کو بھی اس بدقسمت لیکن جائز فوجی کارروائی کے نتیجے میں نقصان پہنچا جو کہ عام شہریوں کے علاقوں اور ان کے نواح میں ہوئیں۔
رملہ میں فلسطینی حکومت کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکار اس بات کا ہی منطقی حصہ ہے جو اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں کیا تھا۔
انھوں نے رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی صرف 29 جون کو شائع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل جیسی بین الاقوامی انکوائری کے نتائج کو ہی مانیں گے۔







