اسرائیل اور ٹیلی فون کمپنی کے درمیان تنازع

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے فرانس کی ٹیلی کام کی بڑی کمپنی ’اورنج‘ کو اسرائیل میں اپنا کاروبار بند کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اورنج کمپنی کے سربراہ سٹیون رچرڈ نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی کمپنی کے ساتھ اپنی کاروباری شراکت ختم کر رہے ہیں۔
بن یامین نتن یاہونے اورنج کمپنی کی جانب سے اس بیان کو شرمناک قرار دیا تھا۔
اورنج کی اسرائیل میں کاروباری شریک کمپنی کا اسرائیل کی موبائل مارکیٹ میں 28 فیصد حصہ ہے اور اورنج کے ساتھ اس کا لائسنس کا معاہدہ ہے جس کے تحت وہ اورنج کا نام استعمال کرتے ہیں۔
اس ماہ کی چھ تاریخ کو انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس نامی پریس میں قائم انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم نے کہا تھا کہ اورنج کی شراکت دار کمپنی فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اپنا انفرا سٹرکچر تعمیر کر رہی ہے اور مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم اسرائیلی آبادکاروں کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
اورنج کے سربراہ رچرڈ کا کہنا تھا کہ اورنج کمپنی عرب ملکوں میں اپنا اعتماد بحال رکھنا چاہتی ہے۔
فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں عالمی قوانین کی رو سے غیر قانونی ہیں، تاہم اسرائیل اس بات کو تسلیم نہیں کرتا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے بیان پر اسرائیل اور اورنج کی شریک کمپنی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیل کے خلاف بنائی گئی بی ڈی ایس نامی تنظیم نے پہلے بھی اورنج کمپنی پر اس کی شراکت دار کمپنی سے کاروباری روابط توڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قاہرہ میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب میں رچرڈ نے کہا کہ وہ اپنی کاروباری شراکت کو کل ختم کرنے کو تیار ہیں لیکن وہ اپنی کمپنی کو قانونی طور پر محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ شراکت ختم کرنے پر تیار ہیں لیکن وہ اورنج کو کسی قانونی الجھن یا تنازعے میں نہیں ڈالنا چاہتے جس سے کمپنی پر کوئی ہرجانہ یا جرمانہ عائد ہو جائے۔
انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ اورنج کے عرب ملکوں میں کاروباری مفادات ہیں۔ ’ہم عربوں کے بھروسہ مند کاروباری شریک بننا چاہتے ہیں۔‘
رچرڈ نے بی ڈی ایس یا انسانی حقوق کی تنظیم کر طرف سے کیے گئے مطالبوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
بن یامین نتن یاہو نے فرانس کی حکومت پر، جس کے اورنج کمپنی میں 13 فیصد حصص ہیں، زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آپ کو اورنج کے سربراہ کے شرمناک بیان اور شرمناک اقدام سے علیحدہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی وہ اسرائیل کے تمام دوستوں سے اسرائیل کی ریاست کے خلاف بائیکاٹ کی واضح اور واشگاف الفاظ میں مخالفت کریں۔
اسرائیل بھر میں جمعرات کو اورنج کے اشتہاری پوسٹروں کو اسرائیل کے جھنڈوں سے ڈھانپ دیا گیا۔
جمعرات کو فرانسیسی کمپنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی طور بھی کسی سیاسی بحث میں الجھنا نہیں چاہتی۔
بیان میں کہا گیا کہ کمپنی ان ملکوں میں اپنے معاہدے جاری رکھنا نہیں چاہتی جہاں وہ خود کاروبار نہیں کر رہی اور کسی شراکت دار کے ذریعے کاروبار کر رہی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اسرائیل سے اپنا کاروبار ختم کرنا چاہتی ہے۔







