فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی آسٹریلوی کوشش زیرِ تفتیش

آسٹریلوی پولیس 2022 میں فیفا ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا کی جانب سے کی گئی میزبانی کی ناکام پیشکش کے بارے میں کی جانے والی مالی ادائیگیوں کی تفتیش کر رہی ہے۔
آسٹریلوی پیشکش کا ایک جز ایسا تھا جس میں ایک سٹیڈیم کی تعمیر نو کے لیے معاوضہ شامل تھا جو مبینہ طور پر فیفا کے اہلکار جیک وارنر نے چوری کر لیا۔
آسٹریلوی فٹبال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی پیشکش میں کوئی غیر قانونی عنصر شامل نہیں تھا۔ آسٹریلیا میزبانی کے حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس سلسلے میں قطر کامیاب رہا تھا۔
جیک وارنر ان 14 افراد میں شامل ہیں جنھیں ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق دینے کے طریقہ کار میں مبینہ بدعنوانی کے سلسلے میں امریکی تفتیش کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔
ان 14 افراد نے گذشتہ 24 سال میں مبینہ طور پر کروڑوں ڈالر رشوت وصول کی تھی۔
اس مجرمانہ امریکی تفتیش کے بعد فیفا کے صدر سیپ بلیٹر اپنے عہدے سے دست بردار ہو گئے ہیں۔
آسٹریلوی پولیس اس بات کی تفتیش کرے گی کہ کیا جیک وارنر کو پانچ لاکھ آسٹریلوی ڈالر کی 2010 میں کی گئی ادائیگی میں کوئی بین الاقوامی یا آسٹریلوی قانون تو نہیں توڑا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آسٹریلوی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ فی الحال ان کا ادارہ فٹبال کے ورلڈ کپ کی میزبانی کی پیشکش میں ہونے والی مالی ادائیگیوں کی تفتیش کر رہا ہے تاہم اس وقت سرکاری طور پر مزید کچھ نہیں کہا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
فٹبال فیڈریشن آسٹریلیا کے چیئرمین فرینک لووی نے ملک میں فٹبال کے شائقین کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں انھوں نے فیفا میں بدعنوانی سے لاتعلقی کا اظہار کیا، تاہم اپنے ادارے کی جانب سے غلطیوں کا اعتراف کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک شفاف پیشکش کی تھی تاہم سب کو ایک جیسے مواقع نہیں دیے گئے جس کی وجہ سے ہماری کوشش ناکام رہی۔‘
انھوں نے کہا کہ میں اس نتیجے کے بارے میں شدید مایوس رہوں گا۔ ’ذاتی طور پر مجھے اسی دن سے سخت شکوہ ہے جس دن آسٹریلیا کی یہ پیشکش ناکام ہوئی تھی۔‘
ادھر سوئس حکام نے بھی علیحدہ سے اعلان کیا ہے کہ وہ 2018 میں روس اور 2022 میں قطر کو دیے گئے میزبانی کے حقوق کی تفتیش کریں گے۔







