بغداد بم دھماکوں میں دس افراد ہلاک، 30 زخمی

،تصویر کا ذریعہEPA
مرکزی بغداد کے دو ہوٹلوں ہوٹل کے باہر دو کار بم دھماکوں میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے ہوئے۔ پہلا دریائے دجلہ کے کنارے بیبیلون ہوٹل کے باہر ہوا اور دوسرا اشتار ہوٹل کے باہر ہوا جو پہلے شیرٹن ہوٹل ہوا کرتا تھا۔
روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق دھماکوں میں کم از کم 30 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
فروری میں بغداد میں 12 گھنٹے کا رات کا کرفیو اٹھا لیا گیا تھا۔
بی بی سی کی اورلا گیورن نے بغداد سے ٹویٹ کیا ہے کہ دھماکوں کے بعد گولیاں چلنے کی بھی آوازیں آ رہی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بیبیلون ہوٹل کے کار پارک میں ملنے والا تیسرا بم ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ ہوٹل جمعرات کو خاصے مصروف ہوتے ہیں اور حالیہ برسوں میں ان کی دوبارہ مرمت کی گئی تھی۔
2010 میں بھی ان ہوٹلوں پر کار بم حملے کیے گئے تھے جن میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







