سعودی عرب کی یمن میں بڑی زمینی کارروائی کی تردید

ابھی تک عدن آنے والے فوجیوں کی شہریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنابھی تک عدن آنے والے فوجیوں کی شہریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا

یمن کے شہر عدن کے ایئر پورٹ کے اطراف میں حوثی باغیوں اور صدر ہادی کے حامیوں میں شدید لڑائی جاری ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق سعودی اتحاد کے فوجی پہلی بار عدن کے میدان میں اترے ہیں۔

سعودی فوج کے ترجمان نے فوجیوں کی عدن میں موجودگی کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑی زمینی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

ابھی تک فوجیوں کی شہریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم یہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والی مقامی ملیشیا کی مدد کر رہے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق فوجی دستہ 20 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی اور اے ایف پی کے مطابق عدن میں اس وقت ہیلی کاپٹر پروازیں کر رہے ہیں اور یمن کے عسکری ذرائع نے ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے ایک اہم اتحادی مصر نے خطے میں اپنی مسلح افواج کی تعیناتی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

کلسٹر بم

کلسٹر بم ایک وسیع علاقے پر چھوٹے بم گراتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکلسٹر بم ایک وسیع علاقے پر چھوٹے بم گراتے ہیں

اس سے پہلے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور اس کی اتحادی افواج یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف تباہی پھیلانے والے کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیوں کو طویل مدتی خطرات کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اتحادی افواج نے جنوبی یمن کے صوبے صدا پر عام آبادی والے علاقوں میں ان بموں سے حملہ کیا ہے۔ صوبہ صدا حوثیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایسے تصویری اور ویڈیو شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلسٹربم امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو فراہم کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے یمن میں کلسٹر بم پھیکنے کی تردید کی ہے، اور کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف زمینی آپریشن کی اطلاعات بھی حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

واضع رہے کہ کلسٹر بم کے ذریعے ایک وسیع علاقے پر چھوٹے چھوٹے بم گرائے جاتے ہیں جو اگر فوری طور پر نہ بھی پھٹیں تو زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے آبادی کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔

ایک معاہدے کے تحت دنیا کے 116 ممالک نے ان بموں کے استعمال پر پابندی لگائی رکھی ہے لیکن سعودی عرب ان ممالک میں شامل نہیں ہے۔

امریکہ اور سعودی اتحاد میں شامل دیگر ممالک نے بھی پابندی کے اس معاہدے پر دسخط نہیں کیے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایک مبینہ کلسٹر بم یمن میں آلِصفرا کے علاقے المارا پر گرایا گیا ہے۔

تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر اس حملے کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں ایک امریکی کمپنی کے تیار کردہ CBU-105 نامی کلسٹر بم کے حصے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ بم ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو فراہم کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ حوثیوں کے خلاف جاری سعودی عرب اور اس کے اتحادی فضائی کارروائی میں اب تک 12 سو سے زیادہ افراد ہلاک اور تین لاکھ افراد اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔