شام میں امریکی بمباری سے درجنوں شہری ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انسانی حقوق کی ایک تنظیم سے وابستہ سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے جنوبی علاقوں میں امریکہ کی نگرانی میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں ہونے والی بمباری میں 50 سے زیادہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔
سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بِرمحل نامی گاؤں پر جمعے کو بمباری کی گئی اور کچھ لوگ اب تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
اتحادی افواج کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے سیرین آبزرویٹری کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اب تک اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں 2 ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں جن میں 1922 دولتِ اسلامیہ کے جنگجو بھی شامل ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سیرین آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ’جمعے کو اتحادی افواج کی جانب حلب صوبے میں واقع بِرمحل گاؤں پر کی جانے والی فضائی بمباری میں 52 شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔‘
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق مرنے والوں میں سات بچے بھی شامل ہیں اور 13 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
واضع رہے کہ اس گاؤں کے قریب دولتِ اسلامیہ اور کردوں کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔
شدت پسند دولتِ اسلامیہ شام اور عراق کے بڑے حصوں پر قابض ہے اور شامی افواج کے علاو دیگر باغی گروہوں کے ساتھ بھی اس کی جھڑپیں جاری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ سال ستمبر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے۔
شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے والے ممالک میں کینیڈا، بحرین، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔







