بان کی مون کا انڈونیشیا کے فیصلے پر ’افسوس‘ کا اظہار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
|قوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے انڈونیشیا میں منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں دو آسٹریلوی شہریوں سمیت آٹھ افراد کو سزائے موت دیے جانے پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ 21 ویں صدی میں سزائے موت کی ’کوئی جگہ‘ نہیں ہے۔
بان کی مون نے انڈونیشیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دیگر تمام قیدیوں کی سزائے موت کے فیصلے کو بدل دے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا میں بدھ کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں دو آسٹریلوی شہریوں سمیت آٹھ افراد کو موت کی سزا دے دی گئی تھی جس پر احتجاج کرتے ہوئے آسٹریلیا نے انڈونیشیا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔
سزائے موت پانے والے افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح سزا پر عمل کرتے ہوئے نوساكمبگان جزیرے پر موجود جیل میں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کا ان سزاؤں کے بارے میں کہنا تھا کہ پھانسی دینا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے اور نہ ہی مذاق ہے تاہم ہمیں اپنی قوم کو منشیات کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے۔
انڈونیشیا میں بدھ کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا پانے والے آٹھ افراد میں سے دو آسٹریلوی شہری اینڈریو چن اور میئون سکوماران شامل تھے۔
منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا پانے والوں میں برازیل کا ایک شہری روڈریگو گولارٹر بھی شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روڈریگو گولارٹر دوسرے برازیلین شہری ہیں جنھیں گذشتہ چار ماہ کے دوران منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں منشیات کے خلاف قانون بہت سخت ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں حق بجانب ہیں کیونکہ ملک کو منشیات سے متعلق مسائل درپیش ہیں۔
انڈونیشیا میں انسداد منشیات کے قومی ادارے کے مطابق منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہر روز 33 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔
انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نشہ آور ادویات کی سمگلنگ کے خلاف سخت ترین قوانین موجود ہیں اور یہاں موت کی سزا پر عملدرآمد کی چار سالہ پابندی کو 2013 میں ختم کر دیا گیا تھا۔









