روایت شکن بادشاہ اور ممکنات کا کھیل

شاہ سلمان اپنے پیش رو کے دور پر بڑی مضبوطی سے ورق پلٹ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشاہ سلمان اپنے پیش رو کے دور پر بڑی مضبوطی سے ورق پلٹ رہے ہیں
    • مصنف, جیرالڈ بٹ
    • عہدہ, تجزیہ نگار، مشرق وسطیٰ

اپنے قدامت پسند طور اطوار کی وجہ سے پہنچانے جانے والے سعودی عرب میں کسی اچانک تبدیلی کو پسند نہیں کیا جاتا، لیکن اس روایت پسند سعودی عرب کے لیے گذشتہ چند ہفتے بہت غیر معمولی رہے ہیں۔

جنوری میں شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد سے شاہ سلمان نے جس تیزی اور جس بڑے پیمانے پر سعودی عرب میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سعودی معیار کے مطابق ناقابل تصور ہیں اور نہ ہی ماضی میں ہمیں اس کی کوئی مثال دکھائی دیتی ہے۔

خارجہ پالیسی کے میدان میں، یمن پر فضائی حملے کر کے اس شہنشاہیت نے علاقائی تنازعوں سے نمٹنے میں احتیاط و تحمل اور خاموش سفارتکاری کی روایت کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا ہے۔

اور یوں سعودی عرب نے اس تنازعے میں اپنے لیے اچانک ایک ایسے کردار کا انتخاب کر لیا جسے خطے میں شیعہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف سنّی عرب ریاستوں کی مشترکہ فوجی کارروائی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

اگلی نسل میں تبدیلی

شاہ نے اپنے جوان بیٹے (بائیں) کو نائب ولی عہد جبکہ اپنے بھتیجے (دائیں) کو ولی عہد بناد دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشاہ نے اپنے جوان بیٹے (بائیں) کو نائب ولی عہد جبکہ اپنے بھتیجے (دائیں) کو ولی عہد بناد دیا ہے

بیرونی معاملات کے برعکس سعودی عرب کے اندر آنے والی تبدیلیاں قدرے کم ڈرامائی رہی ہیں۔

جنوری میں وزیر داخلہ پرنس محمد بن نائف کو ولی عہد پرنس مقرن کے ساتھ نائب ولی عہد مقرر کر دیا گیا جس پر خاصی حیرت کا اظہار کیا گیا۔

سعودی عرب کے بانی ابنِ سعود کے پوتوں میں سے شہزادہ محمد وہ پہلے پوتے ہیں جنھیں اس سیڑھی پر جگہ دی گئی ہے جس میں سب سے اوپر شاہ سلمان خود ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وزارتِ دفاع کا قلمدان سنبھالنے کے لیے شاہ سلمان نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے پرنس محمد بن سلمان کو منتخب کر لیا۔

نہ صرف یہ تقرریاں خاصی معنی خیز تھیں، بلکہ حال ہی میں شاہ سلمان نے جو تبدیلیاں کی ہیں وہ انھوں نے لوگوں کو مزید حیران کر دیا ہے۔

پرنس مقرن کی چھٹی ہو چکی ہے اور ان کی جگہ محمد بن نائف ولی عہد بنا دیے گئے ہیں اور محمد بن سلمان نائب ولی عہد بن گئے ہیں۔

یوں رات کی رات وہ ملک جس نے کبھی 70 یا 80 برس سے کم عمر کے بادشاہ نہیں دیکھے تھے، وہاں مستقبل کا بادشاہ صرف پچاس کے پیٹے میں ہے اور ولی عہد کا نائب صرف 30 اور 40 سال کے درمیان۔

سالہا سال سے سعودی عرب میں یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ نوجوان نسل کو آئندہ کی ذمہ داریاں دینے سے پہلے اسے اس کردار کے لیے آہستہ آہستہ تیار کیا جانا چاہیے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ شاہ عبداللہ کے بارے میں یہ افواہیں تھیں کہ انھوں نے شاہ سلمان کی جگہ لینے کے لیے پرنس مقرن کا انتخاب کیا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ شاہ سلمان کی نگرانی میں پرنس مقرن رموز باشاہت سمجھ سکیں اور کسی اچانک تبدیلی سے پریشان نہ ہو جائیں۔

لیکن نئے بادشاہ نے اپنے پیشرو کی اس تجویز کو یک جنبشِ قلم رد کر دیا اور اب پرنس مقرن منظر سے ہٹا دیے گئے ہیں۔

ایران کا خوف

عدیل الجبیر وہ وزیر خارجہ ہیں جن کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعدیل الجبیر وہ وزیر خارجہ ہیں جن کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں

سعودی منظرنامے میں ایک دوسری بڑی تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ ملک کے نہایت کہنہ مشق وزیر خارجہ کو 40 سال بعد اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

خرابیِ صحت کے باعث منظر سے ان کا ہٹ جانا حیرت انگیز نہیں ہے، لیکن جس بات کی توقع نہیں کی جا رہی تھی وہ یہ ہے اس اہم عہدے پر سعودی عرب میں پہلی مرتبہ شاہی خاندان سے باہر کے کسی فرد کو فائز کیا گیا ہے۔

نئے وزیرِ خارجہ عدیل الجبیر امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر ہیں۔

امکانات ہیں کہ انھیں وزیرِخارجہ بنانے کی وجہ صرف یہی ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ دنیا کی واحد عالمی طاقت کیسے کام کرتی ہے۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں پریشان ہیں کہ ایران اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان جوہری سمجھوتے میں کیا طے ہوتا ہے اور اس معاہدے کے نتیجے میں خطے میں ایران کے اثر ورسوخ میں اضافہ تو نہیں ہو جائے گا۔

یمن پر سعودی قیادت میں کیے جانے والے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہی فی الحال سعودی عرب کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔

شاہ سلمان کے تازہ ترین اعلانات میں ایک اعلان یہ تھا کہ ملک کے سکیورٹی اداروں اور فوج کے تمام ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر اضافی رقم دی جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ یمن کے خلاف کارروائیاں میں پیش پیش دو اہم افراد، یعنی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خارجہ کی فوری ترقی سے شاہی خاندان میں ہر کسی کو یہی پیغام بھیجا گیا ہے کہ سعودی قیادت یمن کے بارے میں اپنی اس پالیسی پر غیر متزلزل طور پر قائم ہے جس کا انتخاب اس نے بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ حکمران خاندان کی نجی محفلوں میں اس حمکت عملی سے بغاوت کی باتیں کی جا رہی ہوں۔

لیکن یہ باتیں صرف وہ سینیئر شہزادے ہی کر سکتے ہیں جنھیں حالیہ تقرریوں میں نظرانداز کر دیا گیا ہے یا وہ شہزادے جن کے خیال میں حالیہ تبدیلیاں بہت جلدی میں کی گئی ہیں اور خاندان کو اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

شاید اسی رد عمل کو بھانپتے ہوئے شاہ سلمان نے اپنے اس سب سے چھوٹے بیٹے کو نائب ولی عہد بنا دیا جنھیں زیادہ لوگ نہیں جانتے۔

اپنے اس حکم نامے سے شاہ سلمان نے پیغام دیا ہے کہ ان کے فیصلے کو شاہی خاندان کی اس ’وفاداری کونسل‘ کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے جس کے قیام کا مقصد یہی تھا کہ وہ ملک میں بادشاہت کی منتقلی کے عمل کو کسی گڑ بڑ کے بغیر احسن طریقے سے مکمل کرے۔

نئی حقیقت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

سعودی عرب نہایت روایت شکن تبدیلیوں کے دور سے گزر چکا ہے اور اس ملک کی قدیم سوچ کا اطلاق اب ختم ہو چکا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ شاہ سلمان اور ان کے جوان مشیر اس نتیجے پر پہنچ چکے ہوں کہ اس بادشاہت کو خطے میں اور اندرونِ ملک جو چیلنج درپیش ہیں ان سے نبردآزما ہونے کے لیے پرانے طور طریقے نہیں چل سکتے۔

حالیہ دنوں میں ملک میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے نام پر ملک میں دہشت گردی کے منصوبے بنا رہے تھے۔

دوسری جانب یمن میں جاری خلفشار سے القاعدہ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں ایک ایسا مضبوط گڑھ بنا رہی ہے جہاں سے وہ سعودی عرب پر حملے کر سکے، اور ایران بھی عراق، شام اور دیگر ملکوں میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔

اور اس پر مستزاد یہ کہ تیل کی مسلسل گرتی ہوئی قیمتوں سے سعودی حکومت کو اپنے عوام اور جنگ کے بھاری اخراجات اٹھانے میں بھی مشکل کا سامنا ہے۔

پیٹرولیم کے وزیر علی نعیمی کو ہٹا کر خالد الفلاح کو سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی ’سعودی ارامکو‘ کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔

توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں علی نعیمی کو بھی اپنے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا اور ان کی جگہ شاہ سلمان کے دوسرے بیٹے عبدلعزیز بن سلمان کو وزیر بنا دیا جائےگا جو آج کل نائب وزیر ہیں۔

سعودی عرب کے بارے میں افواہیں کوئی نئی بات نہیں۔

لیکن سعودیوں کو یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ ان دنوں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ سب کچھ ممکن ہے۔