دولت اسلامیہ کے سیل، سعودی عرب میں گرفتاریاں

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں 93 افراد کو دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
سرکاری سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان افراد کو گزشتہ دسمبر سے اب تک گرفتار کیا گیا اور ان میں سے پانچ کے علاوہ تمام سعودی شہری ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد نے القسیم کے صوبے میں ایک تربیتی مرکز قائم کر رکھا تھا اور وہ خود کش حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
خود کش حملوں کے اہداف میں دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانہ بھی شامل تھا۔
شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ کا شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ ہے اور سعودی عرب ان ملکوں کے اتحاد میں شامل ہے جو اس تنظیم کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی وزارتِ داخلہ نے اس گروہ کو گمراہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے حامی ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ دولت اسلامیہ کے رہنما ابو بکر بغدادی نے اپنے حمایوں سے کہا کہ وہ سعودی عرب کے اندر کارروائیاں کریں۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے مزید کہا کہ یہ گروہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ ان میں پینسٹھ افراد ایک ایسے سیل سے تعلق رکھتے تھے جو رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک اور سیل جس میں پندرہ سعودی شامل تھے وہ کار بم کے تجربات کر رہے تھے اور سیکورٹی تنصیبات، فوجیوں اور رہائشی علاقوں کو ہدف بنانا چاہتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان میں دو مصری اور ایک سعودی شہری مبینہ طور پر امریکی سفارت خانے کو نشانے بنانے کی تیاری میں تھے اور انھیں مارچ کے وسط میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مارچ کے وسط میں امریکی سفارت کارو ں نے ریاض میں اپنےسفارت خانے اور جدہ اور دہران میں کونسلیٹ میں کونسلر سروسز روک دیں تھیں۔







