ایرانی بحریہ کی کارروائی، کارگو جہاز پر قبضہ

،تصویر کا ذریعہAP

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ذرائع نے ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ارنا کو بتایا کہ پاسداران انقلاب کے بحری دستوں نے منگل کو خلیج میں ایک بحری جہاز کو قانونی وجوہات کی بنا پر پکڑ لیا ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے پاسدارانِ انقلاب کے اس اقدام پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جزائر مارشل کے اس جہاز کے پکڑے جانے کے واقعے پر وہ پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ارنا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جزائر مارشل کے جھنڈے والا یہ کارگو جہاز امریکی ہے اور اس پر عملے کے 34 افراد سوار ہیں جن میں سے زیادہ تر یورپی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

پینٹاگن نے کہا ہے کہ ایم وی مارسک ٹگرز جہاز کو جب قبضے میں لیا گیا اس وقت وہ ایرانی سمندروں میں آبنائے ہُرمز سے گزر رہا تھا۔

امریکی وزارتِ دفاع کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ نے جہاز کو خبردار کرنے کے لیے فائر کیا اور اس حرکت کو پینٹاگن کے حکام نے ’نامناسب‘ قرار دیا ہے۔

امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو ساری صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔

پینٹاگن کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی بحریہ کی طرف سے خبردار کرنے کے بعد یہ جہاز ایران کے ساحل کی طرف چلا گیا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ کے طیاروں کو بھی ایرانی بحریہ اور زیر قبضہ جہاز کے عملے کے درمیان ہونے والی مواصلات کے تبادلے پر بھی نظر رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کارگو جہاز امریکہ کا ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ جہاز پر کوئی امریکی شہری موجود نہیں ہے۔