’بلندی کا سکون جوہری ہتھیار سے زیادہ طاقتور‘

یہ آتش فشاں پہاڑ چین کی سرحد کے قریب ہے اور مقامی کہاوتوں میں اسے خطرناک تصور کیا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنیہ آتش فشاں پہاڑ چین کی سرحد کے قریب ہے اور مقامی کہاوتوں میں اسے خطرناک تصور کیا جاتا ہے

شمالی کوریا کے خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کے سربراہ کم جونگ ان ملک کی بلند ترین چوٹی پر پہنچے ہیں اور برف پوش پہاڑ تصاویر بھی کھنچوائی ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ شمالی کوریا کے رہنما 2750 میٹر بلند پہاڑ پر تنہا نہیں تھے بلکہ جنگی جہازوں کے سینکڑوں پائلٹ اور حکام بھی اُن کے ساتھ تھے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کے دورے کا مقصد جمہوریہ کوریا کی فوج میں شامل اُن پائلٹوں سے ملاقات کرنا تھا جو جنگی محاذ سے واپس لوٹے ہیں۔

کم جونگ ان کے والد اور شمالی کوریا کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ اُن کی پیدائش پہاڑ پر ہوئی ہے لیکن تاریخ دانوں کے مطابق وہ روس میں پیدا ہوئے تھے۔

مقامی اخبار نے کم جونگ ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’پہاڑ پاکیٹو پر کوہ پیمائی سے مجھے بہت ذہنی سکون ملا ہے جو کسی جوہری ہتھیار سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔‘

یہ آتش فشاں پہاڑ چین کی سرحد کے قریب ہے اور مقامی کہاوتوں میں اسے خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

کم جونگ ان کے دورے کا مقصد اُن پائلٹوں سے ملاقات کرنا تھا جو جنگی محاذ سے واپس لوٹے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکم جونگ ان کے دورے کا مقصد اُن پائلٹوں سے ملاقات کرنا تھا جو جنگی محاذ سے واپس لوٹے ہیں

شمالی کوریا کے نوجوان رہنما اپنے والد کی طرح اکثر فوجی اڈوں، کارخانوں اور اہم مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عوام کے سامنے اپنے آپ کو زیادہ توانا ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔