’کم جونگ ان تو صرف ایک ہی ہو سکتا ہے‘

شمالی کوریا کے ایک حکم کے مطابق کسی بھی نوزائیدہ بچے کو ان کا نام نہیں دیا جا سکتا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کے ایک حکم کے مطابق کسی بھی نوزائیدہ بچے کو ان کا نام نہیں دیا جا سکتا

جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی کوریا میں عوام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنا نام ملک کے سربراہ کم جونگ ان کا نام پر نہیں رکھ سکتا اور اگر اس کا نام یہ ہے تو اسے تبدیل کرنا ہوگا۔

کے بی ایس ٹی وی اور یون ہیپ چینل کے مطابق یہ حکم نامہ سنہ 2011 میں جاری کیا گیا تھا اور اب منظر عام پر آیا ہے۔

حکم کے مطابق کسی بھی نوزائیدہ بچے کو یہ نام نہیں دیا جا سکتا اور جن کا نام پہلے سے کم جونگ ان ہے وہ اپنے پیدائشی سرٹیفیکیٹ میں تبدیل کروائیں۔

کہا جاتا ہے کہ یہ اصول ملک کے سابق سربراہان یعنی کم کے والد کم جونگ ال اور دادا کم ال سِنگ کے ناموں کے حوالے سے بھی دیا گیا تھا۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں رضاکارانہ طور پر ہونی چاہییں۔

کم جونگ ان سنہ 2011 کے دوران ملک کی سربراہی کے لیے نامزد ہوئے تھے لیکن وہ والدین جنھوں نے اس وقت سے پہلے اپنے بچوں کو ان کا نام دیا تھا انھیں آنے والے مسئلہ کا اندازہ نہیں تھا۔

شمالی کوریا کے حکمران خاندان کو اتنا خفیہ رکھا گیا تھا کہ موجودہ رہنما کو سنہ 2011 سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔

وہ تبھی منظر عام پر آئے جب ان کے والد کی حکمرانی کا دور ختم ہو رہا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار چارلز سکینلون کا کہنا ہے کہ چین کے قدیم خاندانوں اور اس کے کنفیوشین پڑوسی ممالک میں ملک کے رہنما کے نام پر نام رکھنے پر پابندی تھی۔

شمالی کوریا میں تمام انقلابی بیان بازی ہونے کے باوجود ملک کے حکمران خاندان اب بھی وہ روحانی تعظیم کا تقاضا کرتے ہیں جو قدیم شہنشاہوں کو دی جاتی تھی۔