خود کو کتا سمجھنے والی بکری

للی
،تصویر کا کیپشنللی اپنی پیدائش کے تین ہفتے بعد ہی بیمار ہو گئی تھی

اس بیمار بکری کو اپنی ماں کے پاس واپس بھیج دیا گیا ہے جس نے اپنی بیماری کے دوران خود کو کتا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔

لِلی نام بکری کا بچہ برطانیہ کے علاقے نارتھمٹن شائر میں جنوری میں اپنی پیدائش کے فوراً بعد ہی سخت بیمار ہو گیا تھا۔

جس کی وجہ اس کی مالکن ریبیکا مائنیارڈز کو اس بکری کو چڈّی یا نیپی پہنا کر گھر کے اندر رکھنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ ’لِلی اب سب کچھ وہی کر رہی ہے جو ایک بکری کرتی ہے۔ اگر وہ کوئی کتا دیکھتی ہے تو اسے ٹکر مار دیتی ہے۔‘

جب بکری تین ہفتوں کو تھی تو اسے جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا تھا۔

لِلی کو اس کی ماں اور بھائیوں کے پاس واپس بھیج دیا گیا ہے لیکن اس کی ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔
،تصویر کا کیپشنلِلی کو اس کی ماں اور بھائیوں کے پاس واپس بھیج دیا گیا ہے لیکن اس کی ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔

ریبیکا مائنیارڈز کوبتایا گیا تھا کہ بکری شاید ہی بچ پائے گی لیکن سٹیرائڈ سے علاج کے بعد ریبیکا نے فیصلہ کیا کہ وہ بکری کی صحت کا خود خیال رکھے گی۔

اس کے بعد کئی ہفتوں تک للی ریبیکا کے گھر کے اندر رہی اور وہ اس کی نیپیاں بدلتی رہیں۔

علاج کے دوران للی گھر میں موجود کتے کے ساتھ کھیلتی رہتی اور کبھی اس کے کھلونے چھپا لیتی اور کبھی اس کے ساتھ گیند سے کھیلتی۔

ریبیکا کہتی ہیں کہ آہستہ آہستہ لِلی یہ سمجھنے لگی کہ وہ ایک کتا ہے۔

اب لِلی کو اس کی ماں اور بھائیوں کے پاس واپس بھیج دیا گیا ہے لیکن اس کی ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔ دودھ ریبیکا کو ہی پلانا پڑتا ہے۔

کبھی کبھار لِلی گھر میں گھس جاتی ہے لیکن اب کتے اس کے ساتھ نہیں کھیلتے۔ وہ اس سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ انھیں ٹکر مار دیتی ہے۔