’برطانیوں کو جہاد سے روکنے کے لیے دل و دماغ جیتنے ہوں گے‘

بی بی سی نے عراق اور شام جانے والے خواتین، مردوں کے بارے پتہ لگایا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ وہاں کیوں گئے، اور اُن کے ساتھ کیا بیتی
،تصویر کا کیپشنبی بی سی نے عراق اور شام جانے والے خواتین، مردوں کے بارے پتہ لگایا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ وہاں کیوں گئے، اور اُن کے ساتھ کیا بیتی

برطانیہ کے اراکینِ پارلیمان نے خبردار کیا ہے کہ عراق اور شام جا کر دولت اسلامیہ میں شامل ہونے والے برطانیوی شہریوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔

داخلہ اُمور کی کمیٹی کی چیئرمین کیتھ ویز نے کہا کہ برطانیہ کو ایسے افراد کے ’دل و دماغ‘ جیتنے ہوں گے۔

کمیٹی کی رپورٹ ایسے موقعے پر آئی ہے جب بی بی سی نے شام اور عراق میں برطانوی جہادیوں کا پتہ لگانے کے لیے ایک ڈیٹا بیس لانچ کیا ہے۔ جس کے مطابق برطانیہ کے بعض علاقوں سے بہت سے افراد گروہوں کی صورت میں نکلے اور ان میں سے بیشتر افراد کی آپس میں دوستیاں تھیں۔

ارکینِ پارلیمان کی رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ ان افراد کو روکنے کے لیے خاندانوں، کمیونٹیز اور بین الاقوامی ساتھیوں کے تعاون سے’ترجیہی بنیادوں‘ پر کام کرے۔

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے مسٹر ویز کا کہنا ہے کہ ’عوام کے سامنے آنے والے اس طرح کے بڑھتے واقعات نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ دل و دماغ کی بے رحم جنگ ہے اور بغیر کسی مضبوط جوابی بیان کے، ہم زیادہ لوگوں کو جانے سے نہیں روک سکتے۔ ہم اس معاملے میں کھائی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔‘

بی بی سی نے عراق اور شام جانے والے خواتین، مردوں اور لڑکے لڑکیوں کے بارے پتہ لگایا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ وہاں کیوں گئے، اُن کا تعلق کہاں سے ہے اور اُن کے ساتھ کیا بیتی۔

160 افراد کے تجزیے سے یہ معلوم ہوا کہ گروہوں کی صورت میں جہاد کے لیے آنے والوں افراد کس راستے سے داخل ہوئے اور جہادی تنظمیوں سے اُن کا رابطہ کیسے ہوا۔

بی بی سی کے ڈیٹا بیس کے مطابق اس رجحان کے فروغ میں سوشل میڈیا کا کردار نسبتاً کم ہے لیکن آمنے سامنے ملاقات زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

بی بی سی کی تحقیق کا کہنا ہے کہ جہادی رجحانات اور عراق، شام جا کر لڑنے میں آن لائن روابط کے مقابلے میں حقیقی روابط زیادہ اہم ہیں۔ داخلہ امور کی کمیٹی میں پیش ہونے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں انٹرنیٹ کی حیثیت ثانوی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی اور جیلوں نے انتہا پسندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

فروری میں برطانیہ میں سکول کی طالبات کے لاپتہ ہونے سے ان سوالات نے جنم لیا کہ کسے برطانیوی کو جہاد کے لیے جانے سے روکا جائے۔

کیتھ ویز نے کہا: ’ایسے واقعات فوری کارروائی نہ کرنے وجہ سے ہوئے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر سکول اور پولیس کو تھوڑا سا بھی انتہا پسندی کا شبہ ہو یا کسی ایسے شخص سے قریبی تعلق جو انتہا پسندی کے رجہانات رکھتے ہو، فوری طور پر والدین کو بتانا چاہیے۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ہاٹ لائن کا نام مشورہ فراہم کرنے کی خدمات ’ایڈوائس سروس‘ ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے مختلف ایئر لائنوں اور ممالک کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے نظام میں نقائص کی نشاندہی کی اور کہا ہے کہ پولیس کو ایئر لائنوں اور دوسرے ممالک کے ذمہ داران کے ساتھ فوری طور پر معاملات کا تبادلہ کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق بعض معلومات کے مطابق جہاد کے لیے جانے والی لڑکیوں نے سوشل میڈیا پر جہادیوں ڈھونڈا۔

 دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے ملک چھوڑنے والے 600 برطانوی شہریوں میں نصف واپس آ گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے ملک چھوڑنے والے 600 برطانوی شہریوں میں نصف واپس آ گئے ہیں

کمیٹی نے تجویز کیا ہے کہ سوشل میڈیا یعنی ٹوئٹر اور فیس بک، پرتشدد انتہا پسندی کو فروغ دینے والے اکاؤنٹوں کو بند کرے۔

رپورٹ میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جہاد سے واپس آنے والوں کے لیے انفرادی منصوبہ بندی نہ کرنے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا گیا۔

سکیورٹی حکام کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے ملک چھوڑنے والے 600 برطانوی شہریوں میں نصف واپس آ گئے ہیں۔