’شراب چیز ہی ایسی ہے نہ چھوڑی جائے‘

،تصویر کا ذریعہ
نائجیریا کے شمالی شہر کانو میں بیئر (شراب) پینے پر سرکاری طور پر تو پابندی ہے لیکن جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے شراب خانوں کے باہر رکھی ہوئی کرسیاں شرابیوں سے بھر جاتی ہیں جن میں عیسائی اور مسلمان دونوں ہی شامل ہیں۔
غیر مسلموں کے لیے بنائے گئے اس علاقے کا نام سبون گڑھی ہے اور یہ شہر کے نواح میں قائم ہے۔ یہاں شریعت کا نفاذ نہیں ہوتا اس لیے شہر کی اسلامی فورس یہاں شراب بیچنے دیتی ہے۔
بار پر کام کرنے والے پال بینی کہتے ہیں کہ ’کاروبار اچھا جا رہا ہے۔‘
’یہ عورتوں اور مردوں اور سبون گڑھی سے باہر سے آئے ہوئے لوگوں سے بالکل بھر جاتی ہے۔‘
وہ حوسا برادری کے مسلمان لوگوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو سبون گڑھی میں نائٹ لائف کا مزہ لینے کے لیے آتے ہیں۔
یہاں ہفتے کے تقریباً تمام دن بارز صبح تک کھلی رہتی ہیں۔
یہاں تیز آواز میں موسیقی چلتی ہے اور اکثر چھوٹے ٹی وی سیٹوں پر فٹبال کے میچ بھی دکھائے جاتے ہیں۔
جسم فروش خواتین سڑک کے دوسری طرف شام کو ہی کھڑی ہو جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہریوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم نکولا کے ڈاکٹر پیٹرک آئیلانگبے کہتے ہیں کہ حوسا برادری کے بغیر سبون گڑھی کا بیئر کا کاروبار ٹھپ ہو جائے۔
اور شام کو بارز میں اکثر بیئر پینے والے حوسا مسلمان ہوتے ہیں۔ ایک بار کے باہر بیٹھ کر بیئر پینے والے دو افراد نے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن تصاویر کھینچنے پر منع کیا۔
انھوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے خاندان والے ان کو پہچان لیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلمان یہاں رات کے اندھیرے میں پینے کے لیے آتے ہیں۔
تاجر محمد عبدل نے کہا کہ کبھی کبھار تو میں ہفتے میں تین مرتبہ یہاں آتا ہوں۔
ان کے ساتھی تانکو علی کہتے ہیں کہ اگر شریعہ پولیس کانو میں کسی مسلمان کو شراب پیتے پکڑ لے تو وہ سزا کے طور پر اس کے خاندان کی تذلیل کرتی ہے۔
’جب آپ پکڑے جاتے ہیں تو آپ کی تصویر ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسے دیکھیں، یہ اس کا بیٹا ہے، اس کا دادا ہے۔‘
لیکن مذہبی پولیس جسے حسبہ کہا جاتا ہے بارز پر چھاپے نہیں مارتی اس لیے پینے والے وہاں محفوظ ہیں۔
ایک پرانی بار کے منتظم وکٹر اکپان کہتے ہیں کہ میں حسبہ پولیس کو یہاں سے گزرتے ہوئے دیکھتا ہوں لیکن وہ ہمیں تنگ نہیں کرتے۔
یہ بار چیلسی کے میچز دکھانے کے لیے مشہور ہے۔ اکپان چیلسی کے مداح ہیں۔
یہ چھوٹی سی بیئر کی دوکان بہت اچھا بزنس کر رہی ہے۔ ایک رات میں اس کی فروخت تقریباً 300 سے 450 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے جو کہ بیئر کی تقریباً 200 بوتلوں کی قیمت ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
ان کے ایک گاہک ایڈمز محمد کہتے ہیں کہ وہ یہاں گذشتہ دس برس سے بیئر پینے آ رہے ہیں۔
انھوں نے اور ان کے دوست نے بتایا کہ یہاں کانو میں برادریوں میں کوئی تناؤ نہیں ہے اور ان کی واحد شکایت یہ ہوتی ہے کہ اکثر بیئر ٹھنڈی نہیں ہوتی۔
ایک مسئلہ جو بیئر پارلرز کو درپیش رہتا ہے وہ یہ ہے کہ کبھی کبھار الکوحل ان تک نہیں پہنچتی کیونکہ اسے لانے والے ٹرکوں کو حسبہ پولیس روک لیتی ہے۔
پال بینی کہتے ہیں کہ ’آپ انھیں پیسے دیں تو وہ آپ کو جانے دیتے ہیں، اگر وہ آپ کو اس کی اجازت نہ دیں تو وہ آپ کو پولیس سٹیشن لے جاتے ہیں اور چیزوں کو ضبط کر لیتے ہیں۔‘
’جب ایسا ہوتا ہے تو اس سے مشہور بیئرز کی دستیابی میں کمی ہو جاتی لیکن اس کا عام طور پر مطلب ان کا مہنگا ہو جانا ہوتا ہے۔ سبون گڑھی کی بارز کبھی خشک نہیں ہوتیں۔‘
سبون گڑھی کے بیئر پارلرز کو بوکو حرام کے اسلامی شدت پسندوں نے ماضی میں کئی مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔ آخری حملہ یہاں مئی 2014 میں ہوا تھا۔
انٹونیا جان گذشتہ 17 سال سے یہاں بار اور ریسٹورنٹ چلا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس سے ہمارا کاروبار متاثر ہوا تھا۔‘
’گاہک تقریباً ایک مہینہ یہاں سے دور رہے۔‘







