پہنچے لیکن 1200 کلومیٹر کا اضافی سفر کر کے

’ڈرائیور کو یہ بات سمجھانے میں سیاحوں کو کافی مشکل ہوئی کہ ہم راستہ بھٹک گئے ہیں ‘

،تصویر کا ذریعہstudio brussel

،تصویر کا کیپشن’ڈرائیور کو یہ بات سمجھانے میں سیاحوں کو کافی مشکل ہوئی کہ ہم راستہ بھٹک گئے ہیں ‘

بیلجیئم میں سیاحوں کو بس ڈرائیور نے منزل مقصود تک پہنچانے میں 1200 کلومیٹر کا اضافی چکر لگایا۔

ان سیاحوں کی اصل منزل فرانسیسی شہر لا پلانیا تھی لیکن بس میں سمت معلوم کرنے کے نظام جی پی ایس کی خرابی کی وجہ سے ڈرائیور انھیں فرانس اور سپین کےسرحدی علاقے کے قریب لے گیا۔

اپنی چھٹیاں سکیئنگ کر کے گزارنے کے خواہش مند یہ سیاح ایک دن کے تعطل سے بالآخر ان پہاڑیوں پر پہنچ گئے۔

مسافر بس کے ڈرائیور نے سٹوڈیو برسل نامی ریڈیو سٹیشن کو بتایا کہ ’لا پلانیا نامی تفریحی مقام تک پہنچنے کے تین راستے ہیں، لیکن میں نے غلط راستے کا انتخاب کر لیا۔‘

سٹوڈیو برسل نامی ریڈیو سٹیشن فلیمش پبلک سروس براڈکاسٹ کا یوتھ چینل ہے اور یہ سیاحی دورہ بھی انھی کی جانب سے کروایا جا رہا تھا۔

بس ڈرائیور نے بیلجیئم کے مرکزی مقام لیون سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور بجائے ایلپس کے انھیں لا پلانیا نامی ایک ایسے علاقے میں لے گیا جہاں برف بالکل نہیں پڑتی اور جو تفریحی مقام سے 600 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے۔

’اگر آپ برف پوش پہاڑوں کا رخ کریں تو انگور کے باغات ملنا غیر معمولی بات ہے‘
،تصویر کا کیپشن’اگر آپ برف پوش پہاڑوں کا رخ کریں تو انگور کے باغات ملنا غیر معمولی بات ہے‘

ایک مسافر نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرائیور کو انھوں نے بہت مشکل سے سمجھایا کہ وہ راستے سے بھٹک گئے ہیں اور سپین جا رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ بس میں سونے کا بندوبست بھی تھا اور جب وہ روشنی ہونے پر اٹھے تو انھوں نے انگور کے باغات دیکھے۔

’اگر آپ برف پوش پہاڑوں کا رخ کریں تو انگور کے باغات ملنا غیر معمولی بات ہے۔‘

سیاح کہتے ہیں کہ وہ غیر متوقع طور پر کیے جانے والے اس لمبے سفر سے لطف اندوز ہوئے

،تصویر کا ذریعہstudio brussel

،تصویر کا کیپشنسیاح کہتے ہیں کہ وہ غیر متوقع طور پر کیے جانے والے اس لمبے سفر سے لطف اندوز ہوئے

انھوں نے کہا کہ ان کو پتہ چل گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے اور پھر ڈرائیور کو فرانس کا نقشہ دکھایا گیا اور سمجھایا گیا کہ بس کے جی پی ایس میں کوئی خرابی ہے۔

اس کے بعد بس ڈرائیور تولوز کی سمت واپس مڑے اور مسافر درست منزل لا پلانیا پہنچے۔

سٹوڈیو برسل کے منتظمین نے سیاحوں کی تواضح ہلکے پھلکے ہسپانوی کھانوں سے کی۔

سیاحوں نے ایک مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اس غیر متوقع متبادل سفر سے لطف اندوز ہوئے۔