نیمتسوو کے قتل کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

امریکہ اور یوکرین کے صدور نے اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ اور یوکرین کے صدور نے اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی رہنماؤں نے روس میں صدر پوتن کے مخالف رہنما بورس نیمتسوو کے قتل کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

روسی پولیس کے مطابق ایک نامعلوم حملہ آور نے نیمتسوو کو ماسکو میں جمعے کی شب چار گولیاں ماریں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں کریملن کے قریب اس وقت گولی ماری گئی جب وہ پل عبور کر رہے تھے اور وہ اس حملے کے چند گھنٹے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔

یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو نے اپنے پیغام میں بورس نیمتسوو کو روس اور یوکرین کے درمیان پل قرار دیا۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس واقعے کو افسوسناک اور پریشان کن قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فوری، غیر جانبدار اور موثر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’ملک میں کھلے عام تنقید کرنے والوں میں سے ایک اور جنھیں حکام خاموش کرانا چاہتے تھے میں سے ایک کے ظالمانہ انداز میں قتل کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

بورس کو کریملن کے قریب اس وقت گولی ماری گئی جب وہ پل عبور کر رہے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبورس کو کریملن کے قریب اس وقت گولی ماری گئی جب وہ پل عبور کر رہے تھے

بورس نیمتسوو روسی صدر کے بڑے ناقدین میں سے تھے اور حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ یوکرین میں جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ولادیمیر پوتن انھیں مروا سکتے ہیں۔

نیمتسوو کی عمر 55 سال تھی اور سابق صدر بورس یلسن کے تحت نائب وزیراعظم رہ چکے تھے۔

وہ ایک معاشی اصلاحات کے ماہر کے طور پر جانے جاتے تھے جب وہ روس کے سب سے بڑے شہر نزنی نووگروڈ کے گورنر کے طور پر کام کرتے تھے۔

ان کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ واضح اختلافات سامنے آئے اور وہ ان کے ایک بے باک مخالف کے طور پر ابھرے۔

ان کی سیاسی جماعت کی رکن الیا یاشن نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا ’بدقسمتی سے میں بورس نیمتسوو کی لاش اپنے سامنے دیکھ سکتی ہوں بولشوئی زموسکوورکی پل پر۔ میں لاش اور اس کے آس پاس بہت سارے پولیس اہلکاروں کو دیکھ سکتی ہوں۔‘

نیمتسوو کی ہلاکت کے بعد روس میں حزبِ مخالف کے رہنماؤں نے اتوار کو ماسکو میں یوکرین میں جنگ کے خلاف منعقد ہونے والا مظاہرہ منسوخ کر دیا اور کہا ہے کہ اب اس دن نیمستوو کی یاد میں تقاریب ہوں گی۔

روسی حزبِ اختلاف کے رہنما ایلیا یاشین اور کسینیا سوبچک نیموستوو کے قتل کی خبر سننے کے بعد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنروسی حزبِ اختلاف کے رہنما ایلیا یاشین اور کسینیا سوبچک نیموستوو کے قتل کی خبر سننے کے بعد

نیمستوو نے اپنے آخری ٹویٹ میں لوگوں سے اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔

انھوں نے نے لکھا تھا ’اگر آپ روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں، اگر آپ پوتن کی جارحیت کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں تو مریانو میں سپرنگ مارچ میں یکم مارچ کو ضرور شرکت کریں۔‘

کچھ عرصہ قبل انھوں نے روس کی ایک نیوز ویب سائٹ سوبیسدنک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے اور 10 فروری کو ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ مجھے ڈر ہے کہ پوتن مجھے مروا دے گا۔

انھوں نے لکھا ’میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان افراد میں سے ہیں جنھوں نے یوکرین پر جنگ مسلط کی میں اس پر انھیں کیوں نہ ناپسند کروں۔‘