روسی جیل میں ہتھیاروں کے برفانی مجسمے

،تصویر کا ذریعہ55.FSIN.SU
روس کے انتہائی سرد علاقے سائبیریا میں واقع ایک جیل میں قیدیوں نے برف سے روسی فوجی ہتھیاروں کے بڑے بڑے مجسمے بنائے ہیں۔
روس کے سرکاری اخبار ’روسیاس کایا گزٹ‘ کے مطابق یہ مجسمے اومسک نامی خطے کی ایک جیل میں قیدیوں کے ایک مقابلے کے دوران بنائے گئے۔
یہ مقابلہ روس میں 1918 کی خانہ جنگی کے دوران لڑنے والے فوجیوں کی یاد میں ہر برس منائے جانے والے دن ’ڈفینڈرز آف دا فادرلینڈ‘ کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔
اس مقابلے کے دوران پہلا اعزاز ’ٹوپو ایم بین البراعظمی بیلسٹک‘ میزائل لانچر کے مجسمے کو دیا گیا جس میں فوجی وردی کے رنگ بھرے گئے تھے۔
جیل کے حکام کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مجسمے کو اس کی بے حد مہین کاریگری اور اس کے اندر نصب کی گئی لائٹوں کی وجہ سے بےحد ستائش حاصل ہوئی۔
مقابلے میں دوسرے درجے کا اعزاز روسی ٹی 34 ٹینک کے برفانی مجسمے کو حاصل ہوا۔

،تصویر کا ذریعہ55.FSIN.SU
حکام کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا مقابلہ قیدیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں آزادانہ طور پر تخلیقی کام کرنے کی صلاحیت سے متعارف کراتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فاتح قیدیوں کو جیل میں بہتر سہولیات سے نوازا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیل میں شعبہ نفسیات کے سربراہ آئگور موئیسیو کا کہنا تھا کہ اس سے قیدیوں کی نفسیاتی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے جب کہ ایک ٹیم میں مل جل کرکام کرنے سے ان میں ایک دوسرے کی عزت اور قانون کی پاسداری کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
گزشتہ چند ماہ میں یہ دوسرا موقع ہے جب قیدیوں نے اس طرح کے مجسمے بنائے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے کرسمس اور نئے سال کے موقع پر برف سے بڑے بڑے مجسمے بنائے تھے اور خوب ستائش حاصل کی تھی۔







