نٹیلا چاکلیٹ کمپنی کے ارب پتی بانی انتقال کر گئے

،تصویر کا ذریعہepa
ارب پتی اور اٹلی کے سب سے امیر ترین شخص میکیلی فرریرو جن کا چاکلیٹ کا کاروبار دنیا بھر میں مقبول ہے نواسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
ان کی کمپنی چاکلیٹ اور ہیزلنٹ کی بنی ہوئی ’نٹیلا‘ سپریڈ، ’فرریرو راشر‘ کی چاکلیٹس، ’کنڈر ایگز‘ اور ’ٹک لٹیک‘ کی مٹھائیوں کے باعث بہت مشہور ہے۔
میکیلی کی کمپنی کا کہنا ہے کہ کئی ماہ بیمار رہنے کے بعد مائیکل موناکو کی ریاست میں مقیم اپنے گھر میں ہفتے کو انتقال کر گئے تھے۔
اطالوی صدر نے میکیلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’شروع سے ہی کاروبار میں بہت تیز تھے‘۔
میکیلی کے والد پیئترو پیسٹریز بناتے تھے اور سنہ 1946 میں انھوں نے ’نٹیلا‘ جیسی ایک چاکلیٹ بنائی جسے انھوں نے ’گیان دوجو‘ کا نام دیا تھا۔ یہ چاکلیٹ انھوں نے تھوڑی سی کوکو اور زیادہ ہیزلنٹ سے بنائی۔ یہ ایک قسم کی سستی چاکلیٹ بنی جس زمانے میں چاکلیٹ بہت مہنگی تھی۔

،تصویر کا ذریعہpostie italane
اطالوی پوسٹ آفس نے نٹیلا کی سالگرہ کی نشاندہی ایک نئے سٹیمپ سے کی۔
میکیلی کے بیٹے جیوونای نے بی بی سی کو گزشتہ سال بتایا تھا کہ ’میرے دادا نے اپنی پوری زندگی اس چاک لیٹ کا فارمولا بنانے میں گزار دی۔ انھیں ایک قسم کا جنون تھا۔ وہ رات کو میری دادی کو جگا کہ چمچیوں سے چاکلیٹ چکھاتے اور پوچھتے کیسی لگی؟، کیا خیال ہے؟‘
میکیلی نے اس پیسٹ کا نام نٹیلا رکھا جو آج پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہ گیارہ فیکٹریز میں بنتی ہے اور 160 ممالک میں فروخت کی جاتی ہے۔ پہلی نٹیلا کی بوتل سنہ 1964 میں بنی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیووانی اس کمپنی کے سربراہ سنہ 2011 میں بنے جب ان کے بڑے بھائی پیئترو جنوبی افریقہ میں سائیکلنگ کرنے کے دوران دل کا دورے پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔
فرریرو کے گروپ میں بائیس ہزار ملازمین کام کرتے ہیں اور اس کی قیمت آٹھ ارب یورو سے بھی زیادہ ہے۔
فوربز میگزین نے میکیلی کو ’دنیا کا سب سے امیر مٹھائی والا‘ قرار دیا اور ان کے خاندان کو دنیا کے سب سے امیر خاندانوں کی فہرست میں تیس نمبر پر شامل کیا ہے۔ فرریرو خاندان کی دولت تئیس ارب چار سو کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے۔







