’یوکرین کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی زیرِغور ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کہ صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں جاری بحران کے سیاسی حل میں ناکامی کی صورت میں امریکہ یوکرین کو مہلک دفاعی اسلحہ فراہم کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
نئے امن معاہدے کے بارے میں جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل سے بات چیت کے بعد ان کا مزید کہنا تھا کہ روس نے تمام ذمہ دارایوں کی خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے منسک معاہدہ ناکام ہوا۔
یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے حوالے سے براک اوباما پر امریکی حکام کا دباؤ ہے۔
روس یوکرین میں باغیوں کی مدد کے لیے فوجی اور اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے۔
حالیہ سفارتی کوششیں یوکرین کی حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان ریلوے کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے دیبیلتسو میں جاری جھڑپوں کے بعد شروع کی گئی ہیں۔
پیر کو باغیوں کا کہنا ہے کہ دونیتسک کے قریب واقعے اس قصبے کا زمینی رابطہ انھوں نے منقطع کر دیا ہے جبکہ حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ لڑائی ابھی جاری ہے۔
یوکرین حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں نو فوجی اہلکاراور کم سے کم سات عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
یوکرین کے بحران میں اب تک 5300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کم سے کم 15 لاکھ افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
جرمن چانسلر نے امریکی صدر سے ملاقات میں انھیں یوکرین کے بحران کے لیے فرانس اور جرمنی کی باہمی کوششوں سے طے پانے والے منسک امن معاہدے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جو سرما کی لڑائی کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔
اس حوالے سے چار ملکی چار ملکی مذاکرات کا اگلا دور بدھ کو بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہونا ہے جس میں فرانس، جرمنی، روس اور یوکرین شرکت کریں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا یوکرین کی حکومت کو مہلاک دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کا آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا ’اگر سچ میں سفارتکاری ناکام ہو جاتی ہے، تو اس صورت میں، میں نے اپنی ٹیم سے تمام راستوں پر غور کرنے کے لیے کہا ہے۔‘
تاہم جرمن چانسلی نگیلا میرکل نے واضح کیا کہ وہ مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف ہیں۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ یوکرین کے معاملے مںی روس کے ساتھ سفارتی کوششوں میں مشکلات ہیں تاہم انھوں نے کہا یہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
اس سے قبل فرانس اور جرمنی کی جانب سے یوکرین بحران کے حل کے لیے دی گئی مشترکہ تجویز دیے جانے کے بعد روسی صدر ویلادیمیر پیوتن نے کہا تھا کہ اس بحران کا ذمہ دار مغرب ہے۔
صدر ہیوتن نے مصر کے اخبار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک نے نیٹو میں توسیع نہ کرنے اور نیٹو ممالک کو مغرب اور روس کے درمیان فیصلہ کرنے پر زور نہ دینے کے وعدے پورے نہیں کیے۔
مصر کے دورے کے آغاز پر روسی صدر پیوتن نے الاحرام اخبار کو انٹرویو میں مغرب پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
انھوں نے کہا ’سوویت یونین کی سابقہ ریاستوں کو روس سے دور کرنے کی کوششیں کی گئیں اور ان پر زبردستی روس اور مغربی ممالک میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کا کہا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بارہا متنبہ کیا تھا کہ یوکرین میں مداخلت کے سنگین نتائج ہوں گے لیکن انھوں نے ہمارے موقف پر کان نہ دھرا۔‘
مغربی ممالک نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے روس نواز باغیوں کو یوکرین کی فوج کے خلاف لڑنے کی لیے ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ روس اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما پر دباؤ ہے کہ یوکرین کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کریں اور یوکرین کی فوج کو ہتھیار فراہم کیے جائیں۔
جرمن چانسلر مرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے منسک میں ایک معاہدہ پیش کیا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں قیامِ امن کا ’آخری موقع ہو سکتا ہے‘۔ تاہم یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔
جو معاہدہ پیش کیا گیا تھا اس کی زیادہ تفصیلات تو سامنے نہیں آئی ہیں تاہم اس میں تجویز کیا گیا تھا کہ موجودہ فرنٹ لائن سے 50 سے 70 کلومیٹر تک کو غیر فوجی علاقہ قرار دیا جائے۔







