’اردنی پائلٹ کے قاتل قرآنی سزاؤں کے حقدار ہیں‘

شدت پسندوں نے اسلام کی جانب سے جنگ کے زمانے میں بھی لاشیں مسخ نہ کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے: امام احمد الطیب
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نے اسلام کی جانب سے جنگ کے زمانے میں بھی لاشیں مسخ نہ کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے: امام احمد الطیب

مصر کی مسجد الازہر کے امام نے کہا ہے کہ اردنی پائلٹ کو زندہ جلانے کے ذمہ دار دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند قرآنی سزاؤں کے حقدار ہیں۔

سنّی العقیدہ مسلمانوں کے اہم اسلامی مرکز کے سربراہ اور قاہرہ میں واقع مسجد الازہر کے خطیبِ اعلیٰ احمد الطیب نے کہا ہے کہ ان قاتلوں کو مصلوب کر کے قتل کر دینا چاہیے یا پھر ان کے اعضا کاٹ ڈال دینے چاہییں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں درحقیقت خدا اور پیغمبرِ اسلام سے جنگ کر رہے ہیں اور اسی لیے وہ قرآن میں بیان کی گئی سزاؤں کے حقدار ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق منگل کی شب جاری ہونے والے بیان میں احمد الطیب نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلا کر شدت پسندوں نے اسلام کی جانب سے جنگ کے زمانے میں بھی لاشیں مسخ نہ کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

خیال رہے کہ منگل کی شام دولتِ اسلامیہ کی جانب سے انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی ایک ویڈیو میں بظاہر دکھایا گیا تھا کہ مغوی پائلٹ کو زندہ جلایا گیا۔

اردن نے اپنے پائلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت طلب کیا تھا لیکن ویڈیو میں ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناردن نے اپنے پائلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت طلب کیا تھا لیکن ویڈیو میں ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی

معاذ الکساسبہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے سے اس وقت پکڑا گیا تھا جب ان کا جہاز دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

معاذ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں جاری فضائی کارروائی میں شامل تھے اور وہ اس حادثے میں معمولی زخمی ہوئے تھے۔

ان کی رہائی کے لیے کوششیں ان کی ہلاکت کی ویڈیو کے آنے تک جاری تھیں لیکن اردن کے سرکاری ٹی وی کے مطابق معاذ الکساسبہ تقریباً ایک ماہ پہلے ہلاک کر دیے گئے تھے۔

اردن کی حکومت نے اپنے پائلٹ کی ہلاکت میں ملوث افراد کو سزا دینے اور بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا جس کے بعد بدھ کو ساجدہ الرشاوی نامی شدت پسند خاتون سمیت دو مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے جن کی رہائی کا مطالبہ دولت اسلامیہ نے کیا تھا۔

سزائے موت پانے والے دوسرے مجرم عراق میں القاعدہ کے رہنما زیاد کربولی تھے۔