تہذیبوں کا تصادم؟

چارلی ایبڈو جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف نائجر میں احتجاج کرنے والے نے بینر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے ’میں چارلی نہیں ہوں‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچارلی ایبڈو جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف نائجر میں احتجاج کرنے والے نے بینر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے ’میں چارلی نہیں ہوں‘
    • مصنف, قندیل شام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پیرس

دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں نے پیرس سے شائع ہونے والے طنزیہ رسالے چارلی ایبڈو پر حملے کی مذمت کی لیکن اس کے ساتھ ہی لاکھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خاکے شائع کرنے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے قاتلوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

چارلی ایبڈو کے معاملے پر ایک حقیقت جو واضح رہی وہ یہ ہے کہ اس سے اٹھنے والی’اسلام بمقابلہ سیکولرازم‘ اور ’ہم بمقابلہ وہ‘ کی عمومی اور سطحی بحث کسی حد تک سماجی تقسیم کا باعث بنی۔

اس سلسلے کا دوسرا کالم <link type="page"><caption> ’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/01/150131_paris_attack_aftermaths_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

اس سلسلے کا پہلا کالم <link type="page"><caption> ’پیرس حملوں کے بعد اسلاموفوبیا میں اضافہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/01/150130_paris_attacks_islamophobia_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

لیکن ایک اہم اور غور طلب نقطہ اس سطحی بحث میں دب سا گیا۔ چارلی ایبڈو پر حملے کے بعد دنیا بھر سے آنے والی آراء نے واضح کر دیا ہے کہ مغربی دنیا میں ایک عرصے سے دو مخصوص اور مختلف نظریے ہیں جو آج کل بیک وقت دفاعی اور جارحانہ کیفیت میں ہیں اور اس حالت میں دونوں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔

ایسے میں شاید یہ سوچنا غلط نہ ہو گا کہ چارلی ایبڈو پر حملے کا مذہب یا اسلام کے ساتھ تعلق شاید اتنا نہیں تھا جتنا کہ اس کے بعد فرانس اور دنیا بھر میں ہونے والے مباحثوں، منافرتی جرائم، مظاہروں اور جلوسوں کے دوران دیکھا گیا۔

چارلی ایبڈو پر حملہ آور ہونے والوں پر ’اسلام پسندوں‘ کا ٹھپہ لگا دینا مباحثے کو ’حق و باطل‘ کی شکل دینے اورسماجی تقسیم پیدا کرنے کا آسان نسخہ تھا۔ یہ نائن الیون کے بعد ہونے والی اس بےمہار اور لگاتار بحث سے کچھ مختلف نہیں جس میں سارا زور اسلامی انتہا پسندوں کی

چارلی ایبڈو جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد دنیا بھر کے مسلم ممالک میں احتجاج کیا گیا جن میں سے کئی میں ہلاکتیں بھی ہوئیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچارلی ایبڈو جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد دنیا بھر کے مسلم ممالک میں احتجاج کیا گیا جن میں سے کئی میں ہلاکتیں بھی ہوئیں

جانب سے مغربی جمہوریت کو لاحق خطرے پر رہا۔ اور وہی لگے بندھے دلائل استعمال کرنے سے ایک بار پھر وہی ماحول قائم ہو گیا جس میں ایک مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ مغرب اسکے مذہب یعنی اسلام پر حملہ آور ہو رہا ہے۔

صاف لگتا ہے کہ نفرت سے اٹے اس بیانیے نے شاید ان عوامل سے توجہ ہٹا دی ہے جنہوں نے اس سنگین واقعہ کو ایڑھ لگانے میں شاید مذہب سے کہیں بڑا کردار ادا کیا ہے۔

چارلی ایبڈو جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد دنیا بھر کے مسلم ممالک میں احتجاج کیا گیا جن میں سے کئی میں ہلاکتیں بھی ہوئیں فرانس کی ’سیانپو‘ یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر عصیم ال دفراعی نے جو انسٹیٹیوٹ فار میڈیا اینڈ کمیونیکیشن پالیسی میں سینیئر فیلو بھی ہیں، چارلی ایبڈو کے بعد فرانسیسی میڈیا میں ہونے والی بحث میں بہت نمایاں کردار ادا کیا۔

پیرس میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کئی طرح کے مسائل کا ایک الجھاؤ ہے جو اس حملے کا اصل محرک بنا اور ہمیں اس حقیقت پر توجہ دینی چاہیے۔

’مذہبی پہلو کے علاوہ، سماجی، سیاسی اور اتنے ہی اہم نفسیاتی عوامل بھی ہیں جو اگر زیادہ نہیں تو کم از کم اسی قدر اہمیت ضرور رکھتے ہیں۔ یہاں اکیلے پن یا علیحدگی کا سوال بھی بہت اہم ہے۔ ہمیں ان وجوہات کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے‘۔

کائوچی برادران فرانسیسی معاشرے میں پلے بڑھے تھے۔ عالمی دہشتگرد تنظیموں سے ان کا رشتہ کس حد تک تھا یہ ابھی تک مبہم بات ہے۔ اس لیے انتہا پسندی کی جانب ان کے سفر کو مقامی تناظر میں ہی دیکھنا چاہیے۔ صرف فرانس سے ایک ہزارسے زیادہ جنگجو دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

ایک فرانسیسی پاکستانی، ماہ رخ عارف، پیرس کے مضافاتی علاقے ’بین لئو‘ میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں۔ یہ علاقہ فرانس کی مسلم آبادی کی اکژیت کا مرکز ہے اور ادھوری تعلیم کے حامل بے روزگار نوجوانوں کی غیرمعمولی شرح کے ساتھ، سماج کے مرکزی دھارے سے کٹا ہوا، ایک پسماندہ علاقہ ہے۔

بعض مبصرین کے مطابق پیرس میں حملہ کرنے والوں کے شدت پسندی کی جانب میلان کا جائزہ لینے والوں کوحملہ آوروں کے سماجی نہ کہ مذہبی پسِ منظر کو دیکھنا چاہیے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبعض مبصرین کے مطابق پیرس میں حملہ کرنے والوں کے شدت پسندی کی جانب میلان کا جائزہ لینے والوں کوحملہ آوروں کے سماجی نہ کہ مذہبی پسِ منظر کو دیکھنا چاہیے

ماہ رخ کہتی ہیں کہ ’فرانس میں پرورش پاتے ہوئے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اس ملک کو مساوی حقوق، انسانی حقوق اور مساوی مواقع کے اصولوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔ پھر ایک دن آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو نوکری ملنا ناممکن ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کی کسی کو اس بات کی پرواہ تک نہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو رد کر دیا گیا ہے۔‘

’لہذٰا آپ کسی ایسی چیز کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جو آپ کی زندگی میں کوئی معنی اور مقصد پیدا کرے اور یہی وہ کیفیت ہے جس میں آپ انتہا پسندی کے دائرہء اثر میں آ جاتے ہیں۔ یہ فرانس کا ایک مسئلہ ہے۔‘

بعض مبصرین کے مطابق پیرس میں حملہ کرنے والوں کے شدت پسندی کی جانب میلان کا جائزہ لینے والوں کوحملہ آوروں کے سماجی نہ کہ مذہبی پسِ منظر کو دیکھنا چاہیے کم و بیش یہی بات ’سلام‘ تنظیم کے سلیم ڈریکی بھی کہتے ہیں: ’حملوں کے بعد ہم نے دیکھا کہ اہم دھارے سے تعلق رکھنے والا میڈیا اور سیاست دان فوراً ہی مذہب کی جانب ہوگئے۔ میں اس سے یوں متفق نہیں کہ کچھ بھی اور کہلانے سے پہلے یہ ایک سماجی بحث ہے۔ دہشت گردوں نے مذہب کے نام پر جو بھی کیا اس سے قبل وہ سماج سے کٹے ہوئے تھے۔ وہ مدارس یا مساجد کے راستے پر چلنے والے فرانسیسی مسلمان نہیں تھے ۔ یہ لو گ اس طرح کی مجبور مذہبی اقلیت نہیں تھے جیسے کہ معاشی مجبوریوں یا اکثریت کی جانب سے سماجی پابندیوں کے باعث کسی ایک گروہ کے لوگ ہوتے ہیں۔‘

سنہ دو ہزار پانچ میں فرانس میں ہونے والے فسادات کی چنگاری ان سماجی اسباب سے اٹھی تھی جنھوں نے تشدد، غربت، ناامیدی اور مایوسی کی آغوش میں پرورش پائی تھی۔ نوجوانوں میں بے روزگاری چالیس فیصد سے کچھ اوپر ہے، جو قومی اوسط سے چار گنا زیادہ ہے جبکہ ترکِ تعلیم کی شرح چھتیس فیصد ہے۔

اس صورتحال میں اگر مذہب کو زبردستی بھی انتہا پسندی کا ایک محرک سمجھنے کی کوشش کی جائے تو دو سادہ سے حقائق اسے مسترد کرنے کے لیے کافی ہیں۔

ایک یہ کہ یوروپول کے مطابق یورپ میں ہونے والی دہشتگردی میں مذہبی شدت پسندوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر یعنی صرف دو فیصد ہے۔ یہاں دہشتگردی غالب طور پر نسلی قوم پرست اور علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے کی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر سنہ دو ہزار تیرہ میں یورپ میں دہشت گردی کے ایک سو باون واقعات ہوئے، ان میں صرف دو واقعات کا محرک مذہبی عقیدہ تھا جبکہ بیاسی واقعات کے پس پردہ علیحدگی پسندی کے خیالات کارفرما تھے۔

یورپ کے مسلمان اپنے لیے یورپ میں ایک علیحدہ شناخت تراشنے کی کوشش کررہے ہیں جس پر اب یورپین اُن کی شناخت کے بارے میں سوال کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشنیورپ کے مسلمان اپنے لیے یورپ میں ایک علیحدہ شناخت تراشنے کی کوشش کررہے ہیں جس پر اب یورپین اُن کی شناخت کے بارے میں سوال کرتے ہیں

دوسرا یہ کہ اسلامی انتہا پسندی کا سب سے بڑا نشانہ خود مسلمان ہی بنتے ہیں۔ سنہ دو ہزار چودہ کی گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق، دہشت گردی کی وجہ سے ہونے والی اسی فیصد ہلاکتیں اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں ہوئیں۔

یورپ کے مسلمان اپنے لیے یورپ میں ایک علیحدہ شناخت تراشنے کی کوشش کررہے ہیں جس پر اب یورپین اُن کی شناخت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اس لیے یہ ایک قطعی غیر منطقی بات لگتی ہے کہ ’ہم اور وہ‘ کی تقسیم میں ’وہ‘ سے مراد اسلام ہے۔ درحقیقت، اصل’وہ‘ تو ایک چھوٹا سا گروہ ہے جو دہشتگردی کو بطور ایک ہتھیار استعمال کرنے میں یقین رکھتا ہے اور بیشتر اوقات اس گروہ میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ اس بات پر غور انتہائی ضروری ہے کہ فرانس کے سینکڑوں سکولوں میں مسلم نوجوانوں نے پیرس حملوں کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے سے کیوں انکار کیا۔ اور کیوں چیچنیا، صومالیہ، افغانستان، نائجر، پاکستان، ایران اور الجیریا سمیت کئی مسلم ممالک میں چارلی ایبڈو اور فرانس مخالف پرتشدد مظاہرے اور ریلیاں ہوئیں۔ نائجر میں ہونے والے ہنگاموں میں دس افراد ہلاک ہوئے۔

پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف ہونے والے مظاہرے اگر دم توڑ بھی جائیں تو بھی یہ بحث جاری رہے گی کہ اصل میں ’وہ‘ کون ہے جس کی کارروائیوں سے دنیا کے آزاد، جمہوری اور منصفانہ معاشروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔

اس کی ایک کڑی شاید ہمیں ایک ایسے معاشرے اور نظریے کی سمجھ بوجھ میں ملے جہاں دنیا بھر کے جانے پہچانے کردار، یعنی مسخرے، اور اس سے پیدا ہونے والے سیاسی اور مذہبی طنز کی صدیوں پرانی روایت کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔

ایک طرف جہاں یورپ کے مسلمان اپنے لیے ایک ایسی شناخت تراشنے کی جد و جہد میں لگے ہوئے ہیں جو دو ثقافتوں کو باہم جوڑ دے، تو دوسری جانب خود یورپ سے بھی اس کی پہچان کے بارے میں بہت سے سوال کیے جا رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اپنی شناخت کھوئے بغیر وہ اس پہچان کو کس حد تک پھیلا سکتا ہے۔