جنوبی سوڈان کے حریف تنازع ختم کرنے پر رضامند

جنوبی سوڈان میں دسمبر سنہ 2013 سے شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنوبی سوڈان میں دسمبر سنہ 2013 سے شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے

جنوبی سوڈان کے صدر سلوا كير اور باغی کمانڈر ریک مشار نے ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

جنگ بندی کا معاہدہ ایتھویپا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد عمل میں آیا۔

جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اختلافی امور اور مستقبل کی حکومت میں پاور شیئرنگ کے معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔

جنوبی سوڈان میں دسمبر سنہ 2013 سے شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

ایتھیویپا میں ہونے والے مذاکرات میں شریک دو افریقی سفارت کاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے مطابق موجود صدر سلوا كير نئی انتظامہ میں بھی صدر رہیں گے جبکہ باغی کمانڈر ریک مشار کو نائب صدر بنا دیا جائے گا۔

ایتھیوپیا کے دارالحکومت آدیس آبابا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فریقین میں پاور شیئرنگ کے انتظامات پر دوبارہ غور کرنے کے لیے مذاکرات وسط فروری تک ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر کی جانب سے جولائی سنہ 2013 میں نائب صدر ریک مشار اور ان کی پوری کابینہ کو برطرف کرنے کے فیصلے کے بعد فسادات شروع ہو گئے تھے۔

صدر سلوا کیر نے ریک مشار پر بغاوت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ریک مشار نے اس الزام کی تردید کی تھی تاہم اس کے بعد انھوں نے حکومتی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے باغی فورس بنائی تھی۔

اندازوں کے مطابق صدر سلوا کیر اور ریک مشار کے گروہوں کے درمیان ہونے والے لڑائی میں 10,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنوبی سوڈان سنہ 2011 میں سوڈان سے الگ ہوکر ایک علیحدہ نئی ریاست کے طور پر سامنے آیا تھا۔