غبارے نے بحرالکاہل عبور کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
دو پائلٹوں نے ہیلیئم گیس بھرے غبارے میں بحرالکاہل عبور کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے۔
امریکی ٹروئے بریڈلی اور روسی لیونڈ تیوختیائف کی ٹیم نے کہا ہے کہ دونوں مہم جو چھ روزہ سفر کے بعد میکسیکو میں اتر گئے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ وہ غبارے میں 8383 کلومیٹر کا سفر طے کر کے طویل ترین مسافت اور 137 گھنٹے ہوا میں رہ کر طویل ترین وقت کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
انھیں پچھلا ریکارڈ توڑنے کے لیے اسے ایک فیصد کے فرق سے بہتر بنانا تھا۔
ان کی ٹیم نے ایک بیان میں کہا: ’ٹو ایگلز بیلون ٹیم کو اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وہ لا پوسا گراندے کے ساحل کے قریب اتر گئے ہیں۔ غبارہ ابھی تک پھولا ہوا ہے اور ہواباز ٹھیک ہیں۔‘
یہ دونوں ہواباز اتوار کو جاپان سے اڑے تھے اور انھیں کینیڈا یا امریکہ میں اترنا تھا۔ تاہم موسم نے راستہ بدل کر انھیں میکسیکو میں سمندر میں اترنے پر مجبور کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ عالمی ریکارڈ کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سمندر میں اترنا جائز ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سابقہ ریکارڈ 1981 میں قائم ہوئے تھے اور نیا ریکارڈ قائم کرنے کے لیے انھیں ایک فیصد کے فرق کے ساتھ توڑنا ضروری تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دورانیے کے ریکارڈ کے لیے ان کے غبارے کو 138 گھنٹے اور 45 منٹ تک فضا میں رہنا تھا، جب کہ فاصلے کے لیے 8465 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔
ٹو ایگلز بیلون ٹیم نے کہا کہ وہ ’چھ دن، 16 گھنٹے اور 37 منٹ کے بعد زمین پر اترے، جب کہ اس دوران انھوں نے 8383 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔‘
ہوا کی رفتار، سمت اور مختلف اونچائی پر پرواز کرنے کی وجہ سے گیس کے غباروں کا راستہ موڑنا مشکل ہوتا ہے۔
اونچائی کم کرنے کے لیے پائلٹوں کے پاس ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ ہیلیئم کے والو سے گیس کم کر دیں، جب کہ زیادہ بلندی پر جانے کے لیے وہ غبارے کے اندر موجود ریت کی بوریاں نیچے پھینک دیتے تھے۔
ٹو ایگلز غبارہ خاصا ’ہائی ٹیک‘ ہے اور یہ کیولار اور کاربن فائبر کا بنا ہوا ہے۔ اس کا وزن ایک سو کلوگرام ہے۔







