’یورپ میں یہودی ایک بار پھر نشانے پر ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ستر برس پہلے جنوبی پولینڈ کے قصبے آشوتز میں نازیوں کے موت کے کیمپوں سے زندہ بچ جانے والے تین سو افراد نے ایک بار جنوبی پولینڈ کےاسی مقام پر اکٹھے ہو کر دنیا سے کہا کہ وہ اسے یقینی بنائے’ کہ ہمارا ماضی ہمارے بچوں کا مستقبل نہ بن جائے۔‘
نازیوں کے موت کے کیمپوں کی سترویں برسی کے موقع پر ہونے والی ایک تقریب میں ان کیمپوں سے بچ جانے والے پچاسی سالہ رومن کینٹ نے کہا:’ ہم زندہ بچ جانے والے یہ نہیں چاہتے جو ہمارا ماضی تھی وہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہو۔‘
آشوتز جنوبی پولینڈ کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے موت کے کیمپوں کی وجہ سے مشہور ہوا۔ آشوتز میں خاص طور پر یہودیوں، خانہ بدوشوں اور دوسری نسل کے لوگوں کو نیست و نابود کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔
ورلڈ جوئش کانگریس کے صدر رونلڈ ایس لوڈر نےاس موقعے پر کہا کہ ایک بار پھر یہودی نوجوان لندن، برلن، اور پیرس کی گلیوں میں یارملکا {یہودی ٹوپی} پہن کر چلنے سے ڈرتے ہیں۔
رونالڈ ایس لوڈر نے کہا ہے کہ’یورپ میں یہودی ایک بار پھر اس لیے نشانے پر ہیں کہ وہ یہودی ہیں۔‘

رونالڈ ایس لوڈر نے کہا کہ انھیں 2015 میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 1933 واپس آگیا ہے۔
جمہوریہ چیک کےدارالحکومت پراگ میں یورپیئن جوئش کانگریس نے اکھٹے ہو کر یورپ میں ایک بار پھر یہود مخالف جذبات اٹھنے کی مذمت کی۔
بی بی سی کے کیون کنولی جو اس موقع پر آشوتز کے مقام پر موجود تھے، کہا کہ 1945 میں موت کے کیمپوں سے بچ جانے والے اس وقت تمام بچے تھے لیکن اب وہ عمر رسیدہ لوگ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقع پر فرانس کے صدر فوانسوا اولاند، ناروے کی نوبیل کمیٹی کے چیئرمین تورجوران، ہالینڈ کے بادشاہ ولم الینگزینڈرنے بھی تقریب میں شرکت کی۔``







