ایئر ایشیا: طیارے کے بلند ہونے کی ’رفتار بہت زیادہ تھی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر کو سمندر میں تباہ ہو جانے والے ایئرایشیا طیارے کا پائلٹ جہاز کو بہت تیزی سے بلندی پر لےگیا تھا جس کے بعد طیارہ فضا میں رک گیا اور سمندر میں جا گرا۔
ایئر ایشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 کی تباہی کی وجوہات بتاتے ہوئے انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ اگناسیئس جونان نے پارلیمانی نمائندوں کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ طیارہ تباہی سے پہلے چھ ہزار فٹ فی منٹ کی تیز رفتار سے بلندی کی جانب پرواز کر رہا تھا۔
جکارتہ میں پارلیمانی نمائندوں کے اجلاس کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مسافر بردار طیارہ یا جنگی طیارہ بھی اس قدر تیزی سے بلند نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ ایئر ایشیا کا یہ طیارہ جس پر 162 افراد سوار تھے، گذشتہ ماہ 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے خراب موسم میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
ماہرین کا خیال یہی ہے کہ اس طیارے کو سامنے سے آتی ہوئی طوفانی ہواؤں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وزیر ٹرانسپورٹ اگناسیئس جونان کا کہنا تھا کہ ’پرواز کے آخری منٹ کے دوران طیارہ عمومی رفتار سے زیادہ رفتار سے بلندی کی جانب گیا اور پھر وہ رک گیا۔
’ یہ بات قرین قیاس نہیں کہ کوئی جنگی جہاز بھی 6,000 فٹ فی منٹ کے حساب سے اپنی بلندی میں اضافہ کرتا ہو۔‘
ایوانِ نمائندگان کے کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں مسٹرجونان کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر مسافر بردار طیارے کی رفتار ایک ہزار سے دو ہزار فٹ بلندی فی منٹ کے درمیان رہتی ہے کیونکہ ان طیاروں کے ڈیزائن زیادہ تیزی سے بلندی کی جانب جانے کی اجازت نہیں دیتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہREUTERS
ایئر ایشیا کے طیارے کی تباہی کے اسباب کے ابتدائی جائزے پر نظر رکھنے والے ذرائع نے خبر رسان ادارے روئٹرز کو گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ ریڈار سے حاصل ہونے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تباہی سے پہلے فلائٹ کیو زیڈ8501 ’ناقابل یقین‘ تیز رفتاری سے بلندی کی جانب گئی تھی اور اس تیز رفتاری نے طیارے کی رفتار کی حدیں توڑ دی تھیں۔
یاد رہے کہ اس ماہ کی 14 تاریخ تک پرواز کیو زیڈ 8501 کے بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گئے تھے۔
اس وقت حکام کا کہنا تھا کہ بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کے ملنے کے بعد ان دونوں کی مدد سے تفتیش کرنے والوں کو حادثے کا شکار طیارے کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیل مل سکے گی۔
فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر میں طیارے کی رفتار، اس کی بلندی اور دیگر تکنیکی معلومات ریکارڈ ہوتی ہیں۔







