ہیٹی کے نوجوان زلزلے کے پانچ سال بعد

،تصویر کا ذریعہ
بارہ جنوری 2010 کو ہیٹی میں ریکٹر سکیل پر سات کی شدت کا انتہائی طاقتور زلزلہ آیا تھا۔
اس زلزلے میں ایک اندازے کے مطابق 250,000 افراد ہلاک اور 15 لاکھ بےگھر ہوئے تھے۔ پانچ سال بعد بھی 85,000 سے زیادہ ہیٹی کے یہ بے گھر لوگ پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں رہنے والے بچے زیادہ غیر محفوظ ہیں کیونکہ وہ پانی، صحت و صفائی، ہیلتھ کیئر اور سکولوں جیسی بنیادی ضرورتوں کے بغیر پل بڑھ رہے ہیں۔
فوٹوگرافر رکارڈو وینچوری نے سیو دی چلڈرن کے ساتھ ہیٹی کے ان کیمپوں کا دورہ کیا اور دیکھا کہ زلزلے کے پانچ سال بعد بچے یہاں کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔
میری ڈارلین

،تصویر کا ذریعہ
میری ڈارلین 15 سال کی ہیں اور اس پناہ گزین کیمپ میں رہ رہی ہیں جہاں لوگ 2010 میں زلزلے کے بعد آئے تھے۔
’میں اس کیمپ میں چار سال سے رہ رہی ہوں۔ مجھے یہاں رہنا پسند نہیں لیکن ہمارے پاس بس یہی کچھ ہے۔
’میں یہاں اپنے آپ محفوظ محسوس نہیں کرتی کیونکہ لوگ یہاں ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے۔‘
’ایک مرتبہ یہاں ایک پولیس آفیسر مار دیا گیا۔ انھوں نے اسے گولی ماری اور موٹرسائیکل پر بھاگ گئے۔ یہاں پولیس سٹیشن ہے لیکن کوئی پولیس والا نہیں ہے۔‘
’ہم رات گئے یہاں چل پھر نہیں سکتے، ہمیں نوجوان لڑکوں سے ڈر لگتا ہے جو ہمیں پکڑ لیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیناڈ

،تصویر کا ذریعہ
28 الیناڈ کمیون آف ڈیسالینیز میں اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ ان ہزاروں ہیٹی کے باشندوں میں سے ایک ہیں جو زلزلے کے فوراً بعد پھیلنے والی ہیضے کی وبا کا شکار ہو گئے تھے۔
’مجھے نہیں معلوم مجھے ہیضہ کیسے ہوا لیکن چونکہ میں کھیتوں میں کام کرتا ہوں اور یہاں کوئی لیٹرین نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ وہاں سے یہ وبا لگی ہو۔‘
’مجھے ایسا لگا جیسے میرے معدے میں آگ لگی ہوئی ہے اور مجھے لگا جیسے میں مر جاؤں گا۔‘
’میں مرچند ڈی ڈیسالینیز کے سینٹر میں آیا جہاں میرا علاج کیا گیا اور سیو دی چلڈرن کی ہضے کی بچاؤ کی کِٹ دی گئی۔‘
’اب مجھے پتہ ہے کہ ہیضے سے کس طرح بچنا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ٹوائلٹ میں اور باتھ روم سے آنے کے بعد ہاتھ دھونے ضروری ہیں۔‘
’میں کھیت میں کام کر کے اپنے خاندان کا ہاتھ بٹاتا ہوں۔ میرے بہت زیادہ بھائی بہن ہیں، ہم گیارہ ہیں۔ ان میں سے نو میرے ساتھ یہاں رہتے ہیں۔‘
ایڈرین

،تصویر کا ذریعہOther
ایڈرین 14 سال کی ہیں اور اپنے خاندان کے چھ افراد کے ساتھ پناہ گزین لوگوں کے کیمپ میں بنی ایک عارضی جھونپڑی میں رہتی ہیں، جہاں وہ زلزلے کے ایک دن بعد آ گئی تھیں۔
’ہم ایک گھر میں رہتے تھے لیکن وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
’ہم یہاں آرام سے نہیں رہ رہے کیونکہ جب بارش ہوتی ہے تو ہر طرف بہت زیادہ پانی پھیل جاتا ہے۔
’کیا اچھا ہو کہ ہمیں بیلچے اور کدالیں ملیں تاکہ ہم زمین صاف کریں اور پانی کے لیے نہریں بنا سکیں۔‘
کیٹیانا

،تصویر کا ذریعہ
13 سالہ کیٹیانا کو بھی کیمپ میں اپنی سکیورٹی کے متعلق فکر ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ طبی سہولتوں کا فقدان بھی ایک بڑی فکر کی بات ہے۔
’سٹریٹ لائٹس ٹوٹی ہوئی ہیں اس لیے چلتے ہوئے آپ محفوظ نہیں ہیں۔
’لیکن سب سے بڑا مسئلہ صحت کا ہے۔ یہاں کوئی ہیلتھ سینٹر نہیں ہے۔‘
شیزنرلائن وڈلائن

،تصویر کا ذریعہ
15 سالہ شیزنرلائن بھی پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہ رہی ہیں۔
’میں سفارتکار بننا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے سیاست پسند ہے اور میں باتیں کرنا اور اپنا خیالات شیئر کرنا پسند کرتی ہوں۔‘
’میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہوں گی۔‘
’اگر میں اس کیمپ میں سفارتکار ہوتی تو میں ایک ہیلتھ سینٹر بنواتی کیونکہ یہاں ایک بھی نہیں ہے۔ اور اس کے بعد میں ایک سکوائر بنواتی جہاں بچے مزا کر سکیں۔‘
’اور ایک محفوظ پولیس سٹیشن تعمیر کرواتی کیونکہ یہاں پر جو ہے وہ تقریباً ٹوٹا ہوا ہے اور کیمپ کی سکیورٹی ایک مسئلہ ہے۔‘
’ہم بچوں کے یہاں حقوق ہیں۔ ہمارے سب چیزوں پر حقوق ہیں۔‘
بیچینا

،تصویر کا ذریعہ
’میرا نام بیچینا ہے اور میں 13 سال کی ہوں۔ میں چھٹی کلاس میں ہوں۔ آج میرا امتحان اچھا ہوا ہے۔‘
’میں سکول ختم کرنے کے بعد ایک نرس بننا چاہتی ہوں۔‘
’جب زلزلہ آیا تو میں اپنے بھائی کو غسل کروا رہی تھی اور جب جھٹکے لگنے لگے تو ہم نے بھاگنا شروع کر دیا۔‘
’لیکن کنکریٹ کا ایک ٹکڑا میرے گھٹنے پر آ گرا اور ہمارا گھر بالکل تباہ ہو گیا۔‘
’میرا گھٹنا زخمی ہو گیا تھا اور میں کچھ عرصہ ہسپتال میں رہی تھی۔‘
’انھوں نے میرا گھٹنے پر ٹانکے لگا دیے۔ زلزلے سے پہلے میں چل پھر سکتی تھی لیکن بعد میں نہیں۔‘
’لوگ زلزلے کے متعلق بہت باتیں کرتے ہیں۔ جب لوگ میرا زخم دیکھتے ہیں تو پھر زلزلہ موضوع بحث بن جاتا ہے۔‘







