بچوں کی خاطر والدین سیکھ رہے ہیں ریاضی

بعض والدین کے لیے جنھوں نے بہت پہلے حساب سے رشتہ توڑ لیا تھا ان کے لیے یہ علم اب ذرا پیچیدہ ہو گیا ہے
،تصویر کا کیپشنبعض والدین کے لیے جنھوں نے بہت پہلے حساب سے رشتہ توڑ لیا تھا ان کے لیے یہ علم اب ذرا پیچیدہ ہو گیا ہے

سنگاپور میں والدین پرائمری سکول کا حساب سیکھ رہے ہیں تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ ان کے بچے کس تجربے سے گزرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ابتدائی حساب کی ٹیوشن لے رہے ہیں تاکہ جب ان کے بچے ان سے سوال کریں تو وہ درست جواب دے سکیں۔

’مائی پیپر نامی‘ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹیوشن سینٹر ماسٹری ورکشاپ میں لوگ 700 ڈالر ادا کرکے ریاضی کے سوالات حل کرتے ہیں۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے وہ آٹھ آٹھ گھنٹے آن لائن پر گزارتے ہیں۔

سنگاپور میں اس جانب لوگوں کا رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ وہاں ٹیوشن ایک بڑا کاروبار ہے جو ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ پر محیط ہے۔

کسی سکول کی طرح اس آن لائن کلاس میں والدین کو ان کے موجودہ علم اور صلاحیت کے مطابق درججات میں رکھا جاتا ہے۔

بعض والدین کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں ان کے بچوں کی مشکلات اور جدوجہد کا احساس ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنبعض والدین کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں ان کے بچوں کی مشکلات اور جدوجہد کا احساس ہوا ہے

جینیئس ینگ مائنڈ سینٹر کی پرنسپل نور ہدایہ اسمٰعیل کے مطابق ’بعض والدین یہاں ریاضی کی صفر معلومات کے ساتھ آتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے ساتھ بہت آہستہ آہستہ چلنا ہوتا ہے۔‘

بعض والدین نے بتایا کہ انھیں ان کلاسز سے ان کے بچوں کی مشکلات اور جدوجہد کو سمجھنے میں مدد ملی جبکہ بعض والدین کے لیے جنھوں نے بہت پہلے اس سے رشتہ توڑ لیا تھا ان کے لیے یہ علم اب ذرا پیچیدہ ہو گیا ہے۔

محمد یوسف نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اس میں شرکت کی اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ’پہلا سوال ہی اتنا مشکل تھا کہ سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔‘

بہر حال انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی اہلیہ کی سمجھ میں آ گیا۔