جرمنی میں اخبار کے دفتر پر حملہ، دو گرفتار

اخبار کے دفتر پر پتھر اور آگ کے گولے پھینکے گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناخبار کے دفتر پر پتھر اور آگ کے گولے پھینکے گئے۔

جرمنی میں پولیس نے فرانسیسی ہفت روزہ چارلی ایبڈو میں چھپنے والے پیغمبرِ اسلام کے خاکے دوبارہ چھاپنے والے اخبار پر حملے کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اخبار ’ہیمبرگر مورگن پوسٹ‘ کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے دفتر پر رات کو ہونے والے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن کئی محفوظ شدہ دستاویزات تباہ ہوگئی ہیں۔

ہیمبرگ پولیس کے مطابق دو افراد کو اس اخبار کی عمارت کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔

پولیس ترجمان کریناساڈوسکی نے خبررسیاں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ اخبار کے دفتر پر پتھر اور آگ کے گولے پھینکے گئے۔

ترجمان نے ملزمان کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔

ہیمبرگ فائر بریگیڈ کے ترجمان جورن بارٹش کے مطابق ان رات کو 2 بجے کے بعد اخبار کے دفتر پر حملے کی اطلاع ملی اور فائر بریگیڈ نے موقعے پر پہنچ کر فوری طور پر آگ پر قابو پایا۔

ہیمبرگر مورگن پوسٹ نے چارلی ایبڈو کے مقتول صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کارٹون شائع کیے تھے۔

خیال رہے کہ کئی اور جرمن اخبارات نے بھی یہ کارٹون شائع کیے تھے اور اس حملے کے بعد انھوں نے پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اتوار کو جرمن وزیر داخلہ تھامس ڈی میزئیر نے تمام شہریوں سے فرانس میں حملوں کے بعد اپنی روزمرہ زندگی میں چوکس رہنے کا کہا تھا۔

جرمنی کے اخبار ’بلڈ ایم سونٹیگ‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ چارلی ایبڈو پر حملہ یورپ میں حملوں کی لہر کے آغاز ہوسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق پیرس میں حملوں کے کچھ دیر بعد ہی امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کی گفتگو سنی تھی جس میں مزید حملے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔