’ایک ایک سیکنڈ کی پلاننگ کی ہوئی تھی‘

حملہ آور بہترین فرنچ بول رہے تھے اور انھوں نے اپنا تعلق القاعدہ سے بتایا: عینی شاہد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحملہ آور بہترین فرنچ بول رہے تھے اور انھوں نے اپنا تعلق القاعدہ سے بتایا: عینی شاہد

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اخبار کے دفتر پر حملے کے عینی شاہدین نے اس حملے کو کسی فلم سے تشبیہ دی ہے۔

چارلی ایبڈو میں کام کرنی والی کورین رین نے بتایا کہ کس طرح حملہ آوروں نے زبردستی دفتر میں داخل ہوئے۔

کورین نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ تھیں جب ’دو مسلح افراد نے ہمیں بری طرح دھمکایا۔ وہ دفتر میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ میں نے دفتر میں داخل ہونے کا کوڈ ڈالا۔ انھوں نے وولنسکی پر فائرنگ کی۔ یہ حملہ پانچ منٹ تک جاری رہا۔ میں میز کے نیچے چھپ گئی۔‘

کورین کا کہنا ہے کہ حملہ آور بہترین فرنچ بول رہے تھے اور انھوں نے اپنا تعلق القاعدہ سے بتایا۔

ایک اور عینی شاہد نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ چہرے چھپائے کلاشنکوف سے لیس افراد دفتر کی عمارت میں داخل ہوئے۔

’حملہ آور بہت تجربہ کار تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ انھوں نے کیا کرنا ہے اور کس کو مارنا ہے۔ ایک حملہ آور نے باہر نظر رکھی ہوئی تھی اور دوسرا فائرنگ کر رہا تھا۔‘

’فائرنگ کے بعد وہ اپنی گاڑی کی طرف بھاگے اور جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھے، گاڑی بڑے آرام سے چلی گئی۔ ان لوگوں نے ایک ایک سینٹی میٹر اور سیکنڈ تک کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔‘

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ پہلے وہ سمجھے کہ چینی نئے سال کی تقریبات ہو رہی ہیں۔

’جب میں نے پولیس اہلکاروں کو چھپتے دیکھا تو اس وقت مجھے صورتِ حال کا اندازہ ہوا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ کھڑکی سے دور ہو جائے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ وین کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں یا سب وے میں چھپ رہے ہیں۔‘

ایک اور عینی شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’کسی فلم کا سین لگ رہا تھا۔ وہ فائرنگ کرتے ہوئے چلے گئے۔انھوں نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔ پہلے تو میں سمجھا کہ سپیشل فورسز کی منشیات فروشوں کے ساتھ جھڑپ ہو رہی تھی۔‘