’فرانس میں مسلمان حکومت‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس میں ایک متنازع کتاب شائع ہوئی ہے جس میں فرانس کو ایک اسلامی مملکت کے طور پر دکھایا گیا ہے جہاں یونیورسٹیوں کو قرآن پڑھانے پر مجبور کیا جا چکا ہے، خواتین کے لیے حجاب لینا ضروری ہو چکا ہے اور ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا قانونی حق بن گیا ہے۔
پیرس سے بی بی سی کے نامہ نگار ہیو سکوفیلڈ کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے مطابق فرانسیسی معاشرہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کے سامنےگھٹنے ٹیکتا رہتا ہے اور آخر سنہ 2022 میں ایک مسلمان جماعت کا رہنما ملک کی صدارت اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔
اس کے بعد عورتوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ ملازمتیں چھوڑ دیں جس سے ملک میں بے روزگاری کم ہو جاتی ہے، فرانس میں جرائم کا دور دور تک نشان نہیں رہتا، خواتین کا پردہ معمول کی بات بن جاتی ہے اور مردوں کو اجازت مل جاتی ہے کہ وہ جتنی شادیاں چاہیں کریں۔
اسلام کا ہوّا
اس وقت تک فرانس کی عمومی آبادی اس قدر بےحس اور زوال پذیر ہو چکی ہوتی ہے کہ لوگ نئے صدر کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کرتے بلکہ اس نئی حکومت کو قبول کر لیتے ہیں اور ان کا ملک ایک اسلامی فرانس بن جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مندرجہ بالا منظر کشی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں فرانس کے عہدِ حاضر کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب مشل ہولےبیک کی یہ کتاب کس قدر متنازع ہو سکتی ہے۔
اس کتاب کا عنوان ’سبمشن` (اطاعت، فرماں برداری) ہے‘ اگرچہ اس کی باقاعدہ فروخت بدھ آٹھ جنوری سے شروع ہو رہی ہے، لیکن فرانس میں کتاب کے مندرجات پر بحث پچھلے کئی ہفتوں سے جاری ہے۔
کیا واقعی یہ کتاب ادب کے لبادے میں محض لوگوں کو اسلام سے ڈرانے کی کوشش ہے؟ کیا یہ بہانہ کہکتاب محض خیالی ہے، مصنف کو اس الزام سے بچا سکتی ہے کہ ان کی کتاب دائیں بازو کے سیاست دان اپنے اسلام مخالف ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا مصنف نے کچھ غلط نہیں کیا بلکہ کسی بھی اچھے ادیب کی طرح اس نے معاشرے کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے اور اس نے کڑوے سچ بغیر کسی لگی لپٹی کے لوگوں کے سامنے رکھ دیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس میں مشل ہولےبیک کی کتاب پر اتنی زیادہ تکرار و بحث کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کی شناخت پر قومی سطح پر بحث ہو رہی ہے۔
دوسری کتاب کی کامیابی
گذشتہ برس یورپی پارلیمان کے انتخابات میں غیر ملکی تارکین وطن کی مخالف دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ نے فرانس میں پہلی مرتبہ غیر معمولی کامیابی حاصل کر لی تھی۔ نیشنل فرنٹ کے رہنما مارین لی پین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنہ 2017 کے صدارتی انتخابات میں ایک بڑی امیدوار ہو سکتی ہیں۔
ناول کی کہانی میں بھی ہوتا یہی ہے کہ مارین لی پین کو صدارت سے دور رکھنے کی غرض سے دیگر سیاسی جماعتیں محمد بن عباس نامی ایک سحرانگیز رہنما کی حمایت کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
یہ ناول جس تناظر میں شائع ہوا ہے اس میں اسی قسم کے ایک دوسرے ناول کی کامیابی بھی شامل ہے۔ ’لی سوسائڈ فرانسیا‘ (فرانسیسی خود کشی) نامی یہ ناول بھی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صحافی ایرک زمور نے لکھا تھا اور اس کا مرکزی خیال بھی یہی ہے کہ فرانس اخلاقی طور نئے اور زیادہ پراعتماد اسلام کے سامنے مجبور ہو چکا ہے اور اس سے شکست کھا رہا ہے۔
مشل ہولےبیک کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا ناول دراصل ایرک زمور اور شدید ردعمل کے حامل ان جیسے دیگر لوگوں کے منافرت انگیز خیالات کو ادبی تقویت پہنچا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بائیں بازو کے اخبار ’لبریشن‘ کے ایک کالم نگار لارین جوفرن کے بقول اس ناول کے ذریعے ’مشل ہولےبیک صرف یہ کر رہے ہیں کہ وہ بائیں بازو کے فلسفیوں کے مشہور کیفے فلور میں مارین لی پین کی کرسی گرم کر رہے ہیں۔‘
کالم نگار آگے چل کر لکھتے ہیں: ’مجھے نہیں معلوم مشل ہولےبیک کی نیت کیا ہے لیکن جہاں تک ان کے ناول کا تعلق ہے تو مجھے یہی لگتا ہے کہ اس کے مقاصد سیاسی ہیں۔‘
ایک مرتبہ جب میڈیا میں اس ناول کے بارے میں شور وغوغا ختم ہو جائے گا، تو لوگ اس کتاب کو فرانس کی تاریخ کے ایک اہم موڑ کے حوالے سے یاد رکھیں گے، ایک ایسے وقت سے حوالے سے جب انتہائی دائیں بازو کے خیالات ادب کا حصہ بنے اور عظیم ادب کہلائے۔
کچھ دیگر ناقدین نے اس ناول پر مذکورہ کالم نگار سے سے زیادہ سخت تنقید کی ہے۔ ٹی وی میزبان علی بداؤ کے بقول ’اس کتاب کا سن کر مجھے تو قے ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کتاب سے میری تضحیک ہوئی ہے۔ سنہ 2015 کا نئے سال کا آغاز ایک ایسی کتاب سے ہو رہا ہے جس میں اسلام سے خوف کو ایک ادبی ناول کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
دوسری جانب سے مشل ہولےبیک کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ناول میں ایسے مسائل پر بات کی گئی ہے جن کے بارے میں بائیں بازو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے کو ان مسائل کا سامنا ہے ہی نہیں۔
سب سے احمقانہ مذہب
فرانس کے معروف فلسفی اور ملک کی سب سے بڑی ادبی تنظیم کے رکن الین فنکلکرات نے مشل ہولےبیک کو آنے والے وقت کا عظیم ناول نگار قرار دیا ہے۔
’فرانس میں اسلامائزیشن کے مسئلے کو اجاگر کر کے ایسی جگہ نشانہ لگایا ہے جہاں سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام ترقی پسندوں کو تکلیف ہو رہی ہے اور ان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جہاں تک مشل ہولےبیک کا اپنا تعلق ہے تو وہ ماضی میں اسلام کو ’سب سے زیادہ احمقانہ مذہب‘ قرار دے چکے ہیں، تاہم وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ اپنے ناول کے ذریعے لوگوں کے جذبات ابھار رہے ہیں۔
اپنے ناول کی اشاعت سے کچھ عرصہ پہلے ’پیرس ریو‘ نامی جریدے کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال حقیقت سے دور نہیں کہ ایک اسلامی جماعت فرانس کی شبیہ تبدیل کر رہی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے ناول میں فرانس میں اسلام کا غلبہ آنے والے چند سالوں کی بات دکھائی دیتا ہے۔
’میں نے خود کو ایک فرانسیسی مسلمان کی جگہ پر رکھ کے سوچا تو مجھے محسوس ہوا کہ دراصل یہ لوگ وہاں کھڑے ہیں جہاں ان کا دماغ بالکل کام نہیں کر رہا۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنے پس منظر کے لحاظ سے پسماندہ ہیں اور یہ لوگ بائیں بازو کی سوچ سے بہت دور ہیں، خاص طور پر اس وقت سے جب سوشلسٹوں نے ہم جنس شادیوں کی منظوری دی ہے لیکن یہ لوگ اس دائیں بازو سے بھی دور ہیں جو مسلمانوں کو رد کرتا ہے۔
روشن خیالی کی موت
مصنف کے بقول: ’اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر مسلمان فرانس میں ووٹ ڈالنا چاہتا ہے تو وہ کسے ووٹ دے گا؟ سچ یہ ہے کہ فرانسیسی مسلمان ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ جائے تو جائے کدھر۔ سیاسی نظام میں اس کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔‘
ناول نے سنہ 2022 کے جس فرانس کا نقشہ کھینچا ہے وہاں یونیورسٹیوں میں قرآن کی تعلیم لازمی ہو چکی ہے۔
مشل ہولےبیک کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ مذہب کو انسانی زندگی میں مرکزی حیثیت حاصل ہو اور ان روشن خیالی کے ان نظریات کو موت کی نیند سلا دینا چاہیے جو فرانس میں 18ویں صدی سے رائج ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
روزنامہ ’لی فگارو‘ سے بات کرتے ہوئے مشل ہولےبیک کا کہنا تھا: ’جہاں تک عام زندگی میں مذہب کی واپسی کا تعلق ہے تو یہ ایک عالمی تحریک بن چکی ہے۔ آج کل ملحدانہ نظریات بہت اداس کن ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آج کل ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں وہ تحریک دم توڑ رہی ہے جس کا آغاز قرون وسطیٰ کے اختتام سے ہوا تھا۔‘
اپنے انٹرویو کے اختتام پر مصنف نے اس جانب اشارہ کیا کہ مذہب کی واپسی ایک اچھی چیز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ بھی ملحد نہیں رہے، بلکہ ان کے بقول روشن خیال انسان کو جس آفاقی خالی پن یا دماغی خلا کا سامنا ہے، اس سے تو اسلام بھی بہتر ہے۔
’ آخر کار جب میں نے قرآن کو دوبارہ پڑھا، بلکہ پہلی مرتبہ پڑھا تو مجھے لگا کہ یہ کتاب میرے خیال سے خاصی اچھی ثابت ہوئی۔
’صاف ظاہر ہے کہ تمام مذہبی کتابوں کی طرح قرآن کی بہتر تفسیر کی ضرورت ہے لیکن اگر آپ اس کا دیانتداری سے مطالعہ کریں تو یہ کتاب مقدس جنگ (جہاد) کی عموماً اجازت نہیں دیتی، صرف دعا یا عبادت کی اجازت دیتی ہے۔ اس بنیاد پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے اپنے خیالات تبدیل کر لیے ہیں۔
’اسی لیے میں محسوس نہیں کرتا کہ میں جو لکھ رہا ہوں وہ کسی خوف کی وجہ سے لکھ رہا ہوں۔ بلکہ میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم اس بات کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اگر سچ پوچھیں تو عورتوں کے حقوق کے علمبردار (قرآن کے بارے میں) ان باتوں سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن میں اور میرے جیسے کئی دیگر لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے۔‘
ناول کے آخر میں کہانی کا ہیرو فرینکوس خود ’دوسروں کے ساتھ رہنا سیکھ لیتا ہے‘ اور ایک ’اسلامی‘ یونیورسٹی میں اپنی ملازمت پر واپس چلا جاتا ہے۔ اس کی اس واپسی میں اس کی تنخواہ میں اضافے کا لالچ بھی شامل ہوتا ہے اور یہ وعدہ بھی کہ اسے کئی بیویاں ملیں گی۔







