بحرین میں حزب اختلاف کے سربراہ گرفتار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
خلیجی ملک بحرین میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت الوفاق کے مطابق پارٹی کے سربراہ کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد پارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شیخ علی سلمان کو ایک دن پہلے سنیچر کو طلب کیا تھا اور ان سے قانون کے کچھ حصوں کی خلاف ورزی کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔
شیخ علی سلمان کے وکیل کے مطابق ان کے موکل پر حکومت کے خلاف نفرت پر اکسانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
جمعے کو دارالحکومت مانامہ میں حکومت کے خلاف ہزاروں شیعہ مسلمانوں کے احتجاج میں شیخ علی سلمان شامل تھے۔
مظاہرین حکومت کے خاتمے اور پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شیخ علی سلمان سے پوچھ گچھ کا تعلق الوفاق کی قانونی حیثیت سے متعلق ہو سکتا ہے کیونکہ الوفاق پر گذشتہ ماہ اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی جب اس نے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
الوفاق پارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق شیخ علی سلمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس سے بحرین میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیخ علی سلمان کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر کے باہر پولیس اور ان کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق شیخ علی سلمان کا کیس پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بحرین میں فروری سنہ 2011 سے سیاسی کشیدگی ہے اور جمہوریت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
بحرین میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان شاہی خاندان کی حکومت ہے لیکن بحرین کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ شیعہ افراد حکومت کے جانب امتیازی سلوک برتنے کی شکایت کرتے رہی ہیں۔
14 فروری 2011 ملک میں جمہوری اصلاحات کے لیے مظاہرین جن کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل تھی پرل چوک پر اکٹھے ہو گئے لیکن تین دن کے بعد ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کر کے مظاہرین سے جگہ خالی کروا لی تھی۔
سنہ 2011 میں فروری اور مارچ کے مہینوں میں پرتشدد کارروائیوں میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 35 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ ہزاروں افراد کو جیلوں میں بند کر دیا گیا تھا۔
حقوق انسانی کی تنظیمیں متعدد بار بحرین میں سیاسی اور حقوق انسانی کے کارکنوں کے خلاف حکومت کی کارروائیوں اور انھیں دی جانے والی سزاؤں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔







