کروڑوں ڈالر سڑک پر ، پولیس نے واپس مانگ لیے

حکام کے مطابق اس حادثے کے بعد بینک کی وین سے 35 ملین ہانگ کانگ ڈالر کی مالیت کے نوٹ بکھر گئے

،تصویر کا ذریعہSCMP

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق اس حادثے کے بعد بینک کی وین سے 35 ملین ہانگ کانگ ڈالر کی مالیت کے نوٹ بکھر گئے

ہانگ کانگ پولیس نے عوام سے 52 کروڑ 50 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر لیے جانے والی بینک کی گاڑی کو حادثہ پیش آنے کے باعث سڑک پر بکھر جانے والے کروڑوں ڈالر واپس کرنے کی اپیل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہانگ کانگ کے بینک کی ایک وین جس پر 52 کروڑ، 50 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر مالیت کے کرنسسی نوٹ لدے ہوئِے تھے ایک بڑی شاہراہ پر حادثے کا شکار ہو گئی اور اس پر لدے نوٹ سڑک پر بکھر گئے۔ سڑک پر بکھرے ہوئے نوٹوں کو دیکھ کر وہاں بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور انھوں نے نوٹ جمع کرنے شروع کر دیے۔

حکام کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں بینک کی وین میں موجود 52 کروڑ، 50 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر میں سے تین کروڑ، 50 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر مالیت کے نوٹ غائب ہو گئے۔

عینی شایدین کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد ان نوٹوں کو حاصل کرنے کے لیے وین کے پاس پہنچ گئے جس کے بعد پولیس نے اس علاقے کوگھیرے میں لے لیا۔

ہانگ کانگ کی پولیس کے مطابق انھیں 20 ملین ہانگ کانگ ڈالر کی رقم واپس مل گئی ہے تاہم اس نے متنبہ کیا ہے کہ باقی کی رقم واپس نہ کرنا ’بہت بڑا جرم‘ ہو گا

،تصویر کا ذریعہSCMP

،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ کی پولیس کے مطابق انھیں 20 ملین ہانگ کانگ ڈالر کی رقم واپس مل گئی ہے تاہم اس نے متنبہ کیا ہے کہ باقی کی رقم واپس نہ کرنا ’بہت بڑا جرم‘ ہو گا

ہانگ کانگ کی پولیس کے مطابق انھیں دو کروڑ ہانگ کانگ ڈالر کی رقم واپس مل گئی ہے جبکہ ایک کروڑ، 50 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر کی رقم ملنا باقی ہے۔

تاہم پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ باقی کی رقم واپس نہ کرنا ’بہت بڑا جرم‘ ہو گا۔

یہ حادثہ جمعرات کو دوپہر کے کھانے کے وقت ہانگ کانگ کی مصروف ترین شاہراؤں میں سے ایک ہانگ کانگ آئی لینڈ میں پیش آیا۔

ہانگ کانگ کے لوگ یہ نوٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی گاڑیوں کو چھوڑ کر نوٹ لوٹنے میں مصروف ہو گئے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں شدید خلل آیا۔

اس حادثے کے بعد نوٹوں کی بہت بڑی تعداد چاروں جانب بکھر گئی تاہم عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے پلاسٹک کے بنڈل میں موجود 52 کروڑ، 50 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر کے نوٹ دیکھے۔

ایک عینی شاید نے جنوبی چین مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ انھوں نے ہانگ کانگ کی ایک خاتون کو کم سے کم دس ایسے بنڈل لے جاتے ہوئے دیکھا۔

ہانگ کانگ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ وان سوئی کانگ نے نوٹ اکھٹے کرنے والے افراد سے کہا ہے کہ وہ جلد سے جلد یہ رقم واپس کر دیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا اگر کسی آدمی یا خاتون نے یہ رقم استعمال کی تو یہ بات ’بہت سنجیدہ جرم کے زمرے میں آئے گی۔‘