نائجیریا: بوکو حرام کے حملے میں 33 ہلاک، 100 اغوا

گمسوری گاؤں پر یہ حملہ اتوار کو ہوا تاہم اس کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب اس حملے میں بچ جانے والے افراد میدوگری نامی شہر پہنچے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگمسوری گاؤں پر یہ حملہ اتوار کو ہوا تاہم اس کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب اس حملے میں بچ جانے والے افراد میدوگری نامی شہر پہنچے

نائجیریا کے شمال مشرقی گاؤں میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے حملہ کر کے کم از کم 33 افراد کو ہلاک جبکہ 100 کو اغوا کر لیا ہے۔

اس حملے میں زاندہ بچ جانے ایک فرد نے بی بی سی کو بتایا کہ بوکو حرام کے مشتبہ شدت پسندوں نے گمسوری گاؤں کے نوجوان مرد، خواتین اور بچوں کو پکڑ رکھا ہے۔

گمسوری گاؤں پر یہ حملہ اتوار کو ہوا تاہم اس کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب اس حملے میں بچ جانے والے افراد میدوگری نامی شہر پہنچے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کیمرون کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے نائجیریا کے 116 شدت پسندوں کو اس کی ایک بیس پر حملے کے دوران ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کے مسلح شدت پسندوں نے بدھ کو سرحدی قصبے پر حملہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح شدت پسندوں نے علاقے میں حملہ کر کے دکانوں اور 50 سے زائد مکانات کو آگ لگا دی۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم حکام نے اس حملے کا الزام شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے شدت پسندوں پر عائد کیا ہے۔

نائجیریا کے شمال مشرقی حصے میں ہونے والے تشدد میں رواں برس کے دوران اب تک 2,000 سے زائد شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

گمسوری گاؤں پر ہونے والے حملے میں زندہ بچ جانے والے شخص کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد وہ میدوگری نامی شہر سے واپس آیا اور اس نے 33 لاشیں دفنانے میں مدد کی۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں جاننے کے لیے گاؤں میں موجود ایک ایک گھر گیا۔

مقامی اہلکار نے بی بی سی سے اس شخص کی گواہی کی تصدیق کی ہے تاہم دونوں افراد اپنے نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

خیال رہے کہ بوکو حرام نے نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے سنہ 2009 سے پرتشدد کارروائیاں شروع کی ہیں جن میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے بدھ کو نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران شدت پسند تنظیم بوکوحرام سے جنگ کرنے سے انکار پر 54 فوجیوں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

ان فوجیوں کو بغاوت کا مجرم قرار دیا گیا۔

انھوں نے اگست میں بوکوحرام کے زیرِ تسلط تین قصبات پر دوبارہ قبضہ کرنے کی فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔

فوجیوں کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت میں 59 فوجیوں پر مقدمہ چلا جن میں سے پانچ بری کر دیے گئے جبکہ 54 کو فائرنگ سکواڈ کا سامنا کرنا ہوگا۔

ان فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بوکوحرام کے شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اسلحہ اور گولہ بارود نہیں تھا۔