’قاہرہ کی زندگی سپائیڈر مین کے لیے بھی مشکل‘

،تصویر کا ذریعہANTIKKA PHOTOGRAPHY
مصر کے دو باشندوں کے مطابق شہر کی زندگی مشکل ہو سکتی ہے تاہم دارالحکومت قاہرہ کی زندگی سپر ہیرو کے لیے بھی ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
مصر کی ویب سائٹ اہرم کی آن لائن رپورٹ کے مطابق سپائیڈر مین کا لباس پہنے ایک شخص کی تصاویر شہر میں بہت زیادہ مقبول ہو گئی ہیں۔
ان تصاویر میں سپائیڈر مین کا لباس پہنے ایک شخص قاہرہ کی پر ہجوم سٹرکوں پر لوگوں سے باتیں کرتا، بس کو پکڑنے کے لیے بھاگتا دکھائی دیتا ہے۔
اینتیتکا فوٹوگرافی کا کام کرنے والے فوٹو گرافر حسام عاطف کا کہنا ہے کہ اس کرتب کا مقصد لوگوں کو یہ باور کروانا ہے کہ شہر کی زندگی کتنی مشکل ہو سکتی ہے؟
حسام عاطف نے ویب سائٹ اہرم کو بتایا کہ تمام مصری شہری ہر روز ان مشکلات کو برداشت کرتے ہیں اور وہ سپر ہیروز ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANTIKKA PHOTOGRAPHY
سپائیڈر مین کا لباس پہننے والے شخص عاطف سعد کے مطابق سپائیڈر مین دارالحکومت میں ’تھک‘ چکا ہے۔
مصر میں سپائیڈر مین کا لباس پہن کر فوٹو شوٹ کرنے والے عاطف سعد کو پولیس کی جانب سے متعدد بار روکا جاتا ہے اور انھیں اپنی شناخت کی دستاویزات دکھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
مصر کے مردوں کا کہنا ہے لوگ سٹرکوں پر سپائیڈر مین کا لباس پہنے شخص کو دیکھ کر بہت خوش تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عاطف سعد نے ’الوطن ویب سائٹ‘ کو بتایا مصر کے بچے انھیں دیکھ کر یہی سمجھے کہ میں ہی اصل سپائیڈر مین ہوں تاہم بڑی عمر کے لوگوں کا خیال تھا کہ میں صدر جنرل عبدالفتح السیسی کے آدمیوں میں سے ایک ہوں جو ملک میں انصاف قائم کرے گا۔
عاطف سعد نے مزید بتایا کہ مصر کے نوجوان بچے مجھے پسند کرتے ہیں اور میرے ساتھ اپنی تصاویر کھینچوانا چاہتے ہیں۔







