چین میں جعلی راہبوں کی شامت

،تصویر کا ذریعہGetty
چین میں اطلاعات کے مطابق قانونی طور قائم کی جانے والی عبادت گاہوں کو سرٹیفیکیٹ جاری کیے جائیں گے تاکہ عبادت گزاروں کو فریب کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق مذہبی امور کے حکام بدھ مت اور تاؤ مذہب کی حقیقی عبادت گاہوں کو اسناد جاری کریں گے تاکہ ان میں اور جعلی عبادت گاہوں میں فرق کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دھوکے بازوں کو مقدس مقامات پر اپنے آپ کو راہب کے طور پر پیش کر کے لوگوں سے پیسے ہتھیانے سے روکا جا سکے۔
مذہبی امور کی انتظامیہ کے اہکار لیو وائی نے کہا کہ ’بعض غیر مذہبی مقامات پر جعلی راہبوں کو رکھا گیا ہے جو سیاحوں کو دھوکے سے چندہ دینے اور قیمتی اگربتیاں خریدنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔‘
مذہبی مقامات کے منتظمین سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری اسناد کو عبادت گاہ میں ایسی جگہ پر آویزاں کریں جہاں اسے آنے والے دیکھ سکیں۔ بیجنگ میں دو مندروں کو یہ اسناد جاری کی گئی ہیں اور اس طریقۂ کار کو ملکی سطح پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
شن ہوا کے مطابق مذہبی مقامات پر ’کاروباری سرگرمیاں‘ تیز ہونے کے خلاف حکام کے اقدامات کے بعد چین میں کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمیوں سے مالی فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔
چین میں یونیسکو کے تاریخی ورثے میں شمار ہونے والے ماؤنٹ ویتائی میں سنہ 2013 میں دو مندروں کو سیاحوں سے پیسے بٹورنے کے لیے جعلی راہب بھرتی کرنے کی پاداش میں بند کر دیا گیا تھا۔
ان دو مندروں میں سے ایک ’دولت کے خدا کا مندر‘ بظاہر مختلف رسومات کے موقعے پر بہت زیادہ رقم وصول کرتا تھا اور فریب سے لوگوں کو چندے کے لیے خطیر رقم دینے پر مائل کرتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







